خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 313 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 313

خطبات محمود جلد نمبر 39 313 $1959 جلسہ سالانہ گزر گیا تو ہندوستان کی حکومت نے پاکستان کی گورنمنٹ کی معرفت ہمیں یہ اطلاع دی کہ اب ہم آپ لوگوں کو ویزا دینے کے لیے تیار ہیں لیکن اُس وقت قادیان کا جلسہ سالانہ گزر چکا تھا اور اس سہولت سے ہم کوئی فائدہ نہیں اُٹھا سکتے تھے۔میں نے یہ کہا تھا کہ جب پاکستان کی گورنمنٹ سینکڑوں سکھوں کو جو احمدیوں سے طاقتور ہیں ننکانہ صاحب آنے کی اجازت دے دیتی ہے تو کیا وجہ ہے کہ ہندوستانی حکومت احمدیوں کو جو سکھوں سے کمزور ہیں اور ان سے اُسے کوئی خطرہ نہیں اپنے ملک میں جانے کے لیے ویز انہیں دیتی ؟ جبکہ ہماری پالیسی یہ ہے کہ ہم کسی غیر حکومت کے خلاف اپنی حکومت کے پاس بھی کوئی رپورٹ نہیں کرتے۔بہر حال ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں خدا تعالیٰ ہی قادیان کا رستہ کھول دے تو کھول دے۔اب اگر خدا تعالیٰ نے قادیان کا رستہ کھول دیا تو پنڈت نہرو اور اُن کی حکومت کیا کر سکتی ہے۔لیکن اگر وہ ان خوشی سے ایک کمزور اور امن پسند جماعت کے افراد کو اُن کے مذہبی مرکز میں جانے کی اجازت دے دیا کی کرے تو اُس کی یہ حرکت دنیا میں اُس کی عزت کا موجب ہوگی۔اور اگر وہ ایسا نہیں کرے گی تو وہ دنیا کی نظروں میں ذلیل ہوگی۔بہر حال مظلوم اور کمزور کی مدد نیا کیا ہی کرتی ہے۔میں جب علاج کے لیے انگلستان گیا تو رستہ میں شام میں کچھ دیر کے لیے ٹھہرا۔وہاں کی یک عورت مجھے ملنے کے لیے آئی۔اُس نے بتایا کہ حکومتِ اسرائیل میرے خاوند کو یہاں آنے نہیں دیتی۔اس کے بعد جب میں انگلستان گیا تو ایک اخبار کا نمائندہ مجھے ملنے کے لیے آیا۔اُس کی اخبار کی اشاعت دس لاکھ تھی اور اب دس لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔اُس سے میں نے سرسری ذکر کیا تو اُس نے کہا یو۔این۔او میں میرے تعلقات ہیں، اگر آپ کوائف مہیا کر دیں تو میں کی اسرائیل گورنمنٹ سے جواب طلب کرواؤں گا۔میں نے کہا میں کوائف تو مہیا کر سکتا ہوں مگر میں نے سیاسی آدمی نہیں ہوں اور کسی قوم سے میں ٹکر لینا نہیں چاہتا۔ہمارا خدا موجود ہے اگر وہ مدددینا چاہے تو اسرائیل کی حکومت کو ہی نرم کر سکتا ہے اور اس طرح ناجائز قسم کی پابندیاں اٹھائی جاسکتی ہیں۔اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ پنڈت نہرو اور ان کی حکومت کو نرم کر دے اور ان کے دلوں پر اثر ڈالا دے اور وہ احمدیوں سے نیک سلوک کرنے لگ جائیں تو پرتاپ کیا کر سکتا ہے۔لیکن اگر پرتاپ کے ایڈیٹر کو اس بات کا خیال ہے کہ وہ حکومت کو ہمارے خلاف اُکسا کر ہمارے لیے مشکلات پیدا کر