خطبات محمود (جلد 39) — Page 312
$1959 312 خطبات محمود جلد نمبر 39 سیاسی جماعت نہیں مگر جب کبھی ہمیں کثرت حاصل ہو تو ہم کانگرس پر قبضہ حاصل کر سکیں۔اس پر مولانا نان شوکت علی صاحب جو پاس ہی تھے مجھ سے جھگڑ پڑے۔گاندھی جی نے انہیں چپ کرایا اور کہا انہوں نے جو کچھ کہا ہے درست کہا ہے۔پھر گاندھی جی نے مجھ سے کہا آپ کانگرس کی اصلاح کا مشورہ دیں۔میں نے کہا میرے پاس کانگرس کی کانسٹی ٹیوشن نہیں میں اس کی اصلاح کا مشورہ کیسے دے سکتا ہوں؟ انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا کہ میں کانسٹی ٹیوشن آپ کو بھیج دوں گا۔لیکن بعد میں شاید وہ بھول گئے یا اُن کے سیکرٹری سے فروگزاشت ہوئی اور انہوں نے کانسٹی ٹیوشن مجھے نہ بھیجی۔بہر حال انہوں ن نے اُس وقت مولانا شوکت علی سے کہا کہ آپ ناراض نہ ہوں یہ درست کہتے ہیں۔جب تک انہیں یہ آزادی نہ ہو کہ وہ کسی وقت کثرت حاصل ہونے پر کانگرس پر قبضہ کر سکیں وہ کانگرس میں کیسے شامل ہو سکتے ہیں۔میں نے انہیں یہی کہا تھا کہ جب تک یہ آزادی حاصل نہ ہو کانگرس آل انڈیا کانگرس کی نہیں کہلا سکتی۔وہ ہندوستان کی اکثریت کی نمائندہ تو کہلا سکتی ہے مگر ہندوستان کی نمائندہ نہیں کہلا سکتی۔ہندوستان کی نمائندہ کہلانے کی وہ تبھی مستحق ہو سکتی ہے جب ہندوستان کے تمام افراد کو اس میں برابر کا حصہ لینے کا اختیار ہو۔پھر یہی اخبار جس نے میری تقریر کو بگاڑ کر شائع کیا ہے اس کے بانی مہاشہ کرشن کے کیریکٹر اور ان کی لڑکی کے کیریکٹر پر ایک آریہ اخبار نے حملہ کیا تو اگر چہ یہ اخبار میں سال سے ہمارا مخالف رہا تھا میں نے آریوں کی اس حرکت پر احتجاج کیا اور لکھا کہ کسی شریف اور معز ز آدمی کے گھر کے حالات شائع کرنا اور اُس پر گندا چھالنا اخلاق کے صریح خلاف ہے۔میرے اس احتجاج پر خود مہاشہ کرشن نے اس مضمون کو اپنے اخبار میں شائع کیا اور ہمارے اس نیک سلوک کی تعریف کی۔اگر مہاشہ کرشن زندہ ہوں ( اور میں نے سنا ہے کہ وہ زندہ ہیں ) تو میں اُن سے پوچھتا ہوں کہ اُس زمانہ میں تو آپ نے ہماری تعریف کی تھی کہ ہم نے باوجود شدید مخالفت کے آپ کی تائید میں مضامین لکھے لیکن آج آپ اس واقعہ کو بھول گئے اور آپ کا اخبار بجائے اس کے کہ ہمارے لیے غیرت دکھائے ہم پر حملہ کرتا ہے۔ہم نے تو ہندوستان کی حکومت سے صرف یہ کہا تھا کہ ہمیں ہر سال جلسہ سالانہ کے موقع پر قادیان جانے کی اجازت دے دیا کرو اور ہمارے جانے میں روک نہ ڈالا کرو اور میں نے ذکر کیا تھا کہ کئی ہی سال سے ہندوستان کی حکومت نے ہمیں قادیان جانے کے لیے ویزا نہیں دیا۔اس سال جب