خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 287 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 287

$1958 287 خطبات محمود جلد نمبر 39 گیا تو وہ کمرے میں لوٹ پوٹ رہے تھے اور کہہ رہے تھے ہائے اماں! ہائے اماں! میں نے کہا مرزا صاحب! آپ بوڑھے ہو گئے ہیں لیکن ابھی تک آپ اماں اماں ہی کہتے ہیں خدا کو نہیں کی پکارتے ؟ کہنے لگا ماں کو تو میں نے دیکھا ہے اور اُس کی مہر بانیوں کو بھی دیکھا ہے لیکن خدا تعالیٰ کو میں نے نہیں دیکھا۔پھر اُس نے کہا مولوی صاحب! میں بچپن سے ہی بڑا سلیم الفطرت تھا۔جب مسلمان کی لوگ مسجد میں جاتے اور چوتڑ اوپر کر کے اور سر نیچے کر کے سجدہ کرتے تو میں اُن پر ہنسا کرتا تھا کہ یہ کیسے بیوقوف لوگ ہیں کہ اتنی عمر کے ہو کر بھی ایسے خدا کے سامنے سجدہ کر رہے ہیں جو انہیں نظر نہیں آ رہا۔غرض ان لوگوں کی یہ حالت تھی مگر رب العالمین خدا نے ان کا بھی خیال رکھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو دکھایا کہ ان کی حالت خراب ہے انہیں معاف کر دو۔تو ہمارا خدا ای رب العالمین خدا ہے۔وہ ہر ایک کے لیے اپنی ربوبیت کا نمونہ دکھاتا ہے۔پرانے زمانہ میں بھی وہ ان رب العالمین تھا اور اس زمانہ میں بھی وہ رب العالمین ہے اور آئندہ زمانہ میں بھی وہ رب العالمین رہے گا۔پرانے زمانہ میں ایک بزرگ تھے۔بغداد کا بادشاہ کہیں سفر پر گیا ہوا تھا۔وہاں سے اُس نے ایک ہرکارہ بھجوایا کہ انہیں میرے پاس بلالا ؤ۔وہ بیچارے بہت گھبرائے اور اُسی وقت خچر یا گھوڑے پر سوار ہو کر بادشاہ کی ملاقات کے لیے روانہ ہو گئے۔شہر سے کچھ دور گئے تو بارش آگئی۔اردگرد کوئی مکان نہیں تھا اچانک انہیں ایک جھونپڑی نظر آئی۔وہ اُس کی طرف چل پڑے اور وہاں پہنچ کر مکین سے اجازت لے کر اندر چلے گئے۔جھونپڑی کے مالک نے اُن سے پوچھا آپ کون ہیں؟ اس بزرگ نے جواب دیا کہ میں فلاں ہوں۔اُس شخص نے دریافت کیا کہ آپ اس وقت کدھر جا رہے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ اس اس طرح بادشاہ کی طرف سے پیغام آیا ہے اور میں اُس کی ملاقات کے لیے جارہا ہوں۔ویسے میں نے کوئی قصور نہیں کیا۔جھونپڑی کا مالک ایک اپاہج تھا اور چل پھر نہیں سکتا تھا۔وہ اُس بزرگ کا جواب سن کر ہنس پڑا اور کہنے لگا آپ بیشک واپس تشریف لے جائیے آپ کو خدا تعالیٰ بغداد سے یہاں صرف میرے لیے لایا ہے۔میں کئی سال سے دُعا کر رہا تھا کہ اے خدا! میں تو اپاہج ہوں اور بغداد جا کر اس بزرگ کی زیارت نہیں کر سکتا، تو مجھے ان کی یہیں زیارت کرا دے۔چنانچہ خدا تعالیٰ نے میری دُعا سن لی اور میری اِس دُعا کے نتیجہ میں ہی وہ آپ کو یہاں لے آیا۔چنانچہ واقع میں ایسا ہی ہوا۔کچھ دیر کے بعد بادشاہ کا ایک دوسرا ہر کارہ آیا اور اُس نے کہا کہ نام میں غلطی ہوگئی۔