خطبات محمود (جلد 39) — Page 262
خطبات محمود جلد نمبر 39 262 $1958 پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب آپ کا تیار کردہ لشکر حضرت اسامہ کی کمان میں شام جانے لگا تو صحابہ کے مشورہ سے خود حضرت عمرؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے کہا اس وقت سارا عرب مرتد ہو گیا ہے۔یہ مناسب نہیں کہ مدینہ کے سب لڑنے والے سپاہی باہر بھیج دیئے جائیں۔آپ اس وقت لشکر کو روک لیں تا کہ پہلے منافقوں کا مقابلہ کر لیا جائے۔جب وہ تباہ ہو جائیں گے اور اسلام پھر نئے سرے سے قائم ہو جائے گا تو شام کو فتح کر لیں گے۔حضرت ابوبکر جو بظاہر بڑے نرم دل تھے اور لڑائی کرنے والے نہیں سمجھے جاتے تھے کہنے لگے عمر ا تم یہ کی کہتے ہو کہ میں اسامہ کے لشکر کو روک لوں حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں خود اس لشکر کو تیار کیا تھا اور آپ نے فرمایا تھا کہ یہ لشکر شام کو بھجوایا جائے۔کیا میں آپ کا خلیفہ بن کر سب سے پہلا کام یہی کروں گا کہ آپ نے جو لشکر تیار کیا تھا اس کو روک لوں؟ یہ کبھی نہیں ہو سکتا۔حضرت عمر نے کہا مدینہ کے اردگرد کے تمام قبائل مرتد ہو گئے ہیں وہ مدینہ پر حملہ کریں گے اور تھوڑے ہی دنوں کی میں مدینہ کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے۔حضرت ابو بکر نے کہا عمر ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کے لحاظ سے مجھے اس کی کوئی پروا نہیں کہ کیا ہوگا۔میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بات کو بہر حال پورا کروں گا۔اگر مدینہ میں سارے منافق آجائیں اور تم مجھے سب چھوڑ کر چلے جاؤ تب بھی میں اکیلا ان سب کا مقابلہ کروں گا اور خدا کی قسم ! اگر مدینہ کی گلیوں میں عورتوں کی نعشوں کو گتے گھسٹتے پھریں تب بھی میں اس لشکر کو نہیں روکوں گا جس لشکر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھجوانے کے لیے تیار کیا تھا 8 مگر باوجود اس عشق اور محبت کے آپ کو اللہ تعالیٰ کی توحید اتنی پیاری تھی کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے موقع پر حضرت عمرؓ نے کہا کہ آپ زندہ ہیں تو آپ نے کہا یہ شرک ہے میں اسے تسلیم نہیں کر سکتا۔شرک اسلام میں جائز نہیں۔میں تو وہی بات کہوں گا جو خدا تعالیٰ سے ثابت ہے۔چنانچہ آپ نے تو حید کو قائم رکھا اور حضرت اسامہ کے لشکر کو بھجوا دیا۔اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی ایسی تائید فرمائی کہ منافق بھی شکست کھا گئے اور شام میں بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت اسامہ کو فتح اور غلبہ دیا۔بیشک شام کی فتح کی تکمیل حضرت عمر کے زمانہ میں جا کر ہوئی لیکن حضرت ابوبکر کے زمانہ میں اس کی ابتدا ہو گئی تھی۔اس طرح اللہ تعالیٰ نے حضرت عمرؓ کے ایمان کا بھی انہیں بدلہ دے دیا اور اُن کے ذریعہ اسلام کو بڑی بھاری فتوحات ہوئیں۔مگر حضرت ابوبکر کا ایمان اس