خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 253

$1958 253 خطبات محمود جلد نمبر 39 وَمَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا أَنْزَلَ اللهُ فَأُولَبِكَ هُمُ الظَّلِمُونَ جو کوئی اللہ تعالیٰ کے نازل کردہ احکام کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا وہ ظالم ہوتا ہے تو یقیناً ایک مسلمان اگر قرآن کریم یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بیان کردہ طریق کے مطابق فیصلہ نہیں کرتا تو وہ اُس سے زیادہ ظالم ہے کیونکہ قرآن کریم گلی طور پر محفوظ کتاب ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسی علیہ السلام سے بڑے نبی تھے اور قرآن کریم خود فرماتا ہے کہ آپ کی اتباع لازمی اور ضروری ہے 2ے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جیسا کہ قرآن شریف سے ثابت ہے اپنے پاس سے کوئی بات نہیں کہتے تھے بلکہ جو بات بھی کرتے تھے وہ ایک قسم کی وحی ہوتی تھی 3 چاہے وہ وحی خفی ہو یا حی جلی۔وحی جلی قرآن کریم ہے جسے وحی متلو بھی کہتے ہیں اور ایک وحی غیر متلو ہے جو وحی خفی کہلاتی ہے جس کو حدیث بھی کہتے ہیں۔اس کا درجہ قرآن کریم کے بعد ہے لیکن بہر حال دوسرے علماء کے اقوال پر مقدم ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے ایک دفعہ پوچھا گیا تو آپ نے یہی فرمایا کہ ہمارا کی طریق یہ ہے کہ سب سے پہلے قرآن کریم کے مطابق فیصلہ کیا جائے۔اور جب قرآن کریم میں کوئی بات نہ ملے تو پھر اسے حدیث سے تلاش کیا جائے۔اور جب حدیث سے بھی کوئی بات نہ ملے تو پھر ستدلال اُمت کے مطابق فیصلہ کیا جائے 4 یہی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کا طریق تھا۔اس لیے آپ کی نے فرمایا کہ ہمارا مسلک حنفی ہے۔حضرت امام ابوحنیفہ کے ایک شاگرد کے متعلق آتا ہے کہ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص شافعی ہے تو حنفی حج کا فرض ہے کہ اُس کے مقدمہ کا فیصلہ شافعی فقہ کے مطابق کرے اور اگر کسی اور فرقہ سے تعلق رکھتا ہے تو اُس کے مطابق فیصلہ کرے سوائے اس کے کہ مدعی اور مدعا علیہ کے عقیدوں میں اختلاف ہو۔ایسی صورت میں اگر ان کا معاملہ اپنی جماعت کے سامنے آئے گا تو ان کے بارہ میں جماعتی فیصلہ مانا جائے گا۔اور اگر ان کا معاملہ سرکاری عدالت میں جائے گا تو جو سر کاری قانون ہے وہ مانا جائے گا کیونکہ جب فریقین مختلف العقیدہ ہوں تو یہ سمجھا جائے گا کہ اُن کے مابین جو تصفیہ ہوا تھا وہ قانون کے مطابق ہوا تھا۔پس مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ قرآن اور پھر حدیث کے مطابق اپنے جھگڑوں کے فیصلے کریں۔حدیث پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سنت کو مقدم رکھا ہے 5 کیونکہ حدیث