خطبات محمود (جلد 39) — Page 215
خطبات محمود جلد نمبر 39 215 $ 1958 حضرت معین الدین صاحب چشتی جنہوں نے اسلام کے لیے اتنی بڑی قربانی کی تھی کہ وہ ان ایران سے ہندوستان آئے اور بغیر ایک پیسہ لیے اسلام کی خدمت کرتے رہے۔ان کی اولاد آج بھیک مانگ مانگ کر گزارہ کر رہی ہے۔امراء حضرت معین الدین صاحب چشتی کے ادب کی وجہ سے ان کی اولا د کو روپیہ دے دیتے ہیں جس سے وہ گزارہ کرتی ہے ورنہ اپنی ذات میں ان کے اندر کوئی روحانیت باقی نہیں رہی۔یہی حال حضرت نظام الدین صاحب اولیاء اور حضرت فرید الدین صاحب شکر گنج سے تعلق رکھنے والوں کا ہوا۔انہوں نے ایک بہشتی دروازہ بنایا ہوا ہے اور جو لوگ وہاں عقیدت اور اخلاص کے ساتھ جمع ہوتے ہیں اُن سے کہا جاتا ہے کہ اس دروازہ میں سے گزرو اور آگے چل کر نذر پیش کرو۔اب کی بھلا وہ بھی کیا نذر ہوئی جو زبردستی لی جاتی ہے۔اس سے پتا لگتا ہے کہ ظاہر اور باطن اللہ تعالیٰ ہی کے ہاتھ میں ہے انسان خواہ کس قدر تدبیریں کرے اللہ تعالیٰ کے فضل اور اُس کی نصرت کے بغیر وہ کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔مسیحیوں کو دیکھ لو وہ تین سوسال تک غاروں میں رہتے رہے لیکن انہوں نے حضرت مسیح کو نہیں چھوڑا۔رومی بادشاہ اُس وقت بُت پرست تھا اور اس نے حکم دے دیا تھا کہ جہاں کوئی عیسائی ملے اُسے مار ڈالو۔چنانچہ وہ اپنی جانیں بچانے کے لیے غاروں میں رہنے لگے۔میں نے اٹلی میں خود وہ کی جگہیں دیکھی ہیں جہاں عیسائیوں نے پناہ لی۔ان غاروں کو کیٹا کو مبز (Catacombs) کہتے ہیں۔قرآن کریم میں ان کا نام کہف رکھا گیا ہے۔10 وہاں جگہ جگہ کتبے لگے ہوئے ہیں اور اُن پر شہید ہونے والوں کے حالات درج ہیں۔ایک جگہ ایک لڑکے نے لکھا ہوا تھا کہ یہاں میری ماں ، میرا باپ اور اتنے بھائی اور بہنیں مار دیئے گئے تھے اور وہ اسی جگہ دفن ہیں۔اے آنے والے ! تو خدا تعالیٰ کی راہ میں ان جان دینے والوں کے لیے دُعا کر کہ اللہ تعالیٰ ان کے درجات کو بلند کرے اور انہیں کی اپنی رضا کا وارث کرے۔غرض تین سو سال تک عیسائیوں کو ماریں پڑتی رہیں اور بعد میں وہ اُس وقت غاروں سے نکلے جب روم کا بادشاہ عیسائی ہو گیا۔اُس نے ایک خواب کی بناء پر عیسائیت کو قبول کیا اور کی تمام ملک میں اعلان کر دیا کہ اب عیسائیوں کے لیے امن ہے۔پھر یہ لوگ باہر نکلے مگر اتنی بڑی قربانی کرنے والے عیسائیوں کی اولادوں کا آج کیا حال ہے۔انہوں نے مسیح کو جو خدا تعالیٰ کا ایک