خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 203 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 203

$1958 203 خطبات محمود جلد نمبر 39 تھیں لیکن جب سے ٹا کی نکل آئی ہے سینما میں بھی یہ چیزیں آگئی ہیں بلکہ اس سے زیادہ بڑے پیمانہ پر آئی ہیں کیونکہ تھیٹر کا صرف ایک شو ہوتا تھا جس میں بڑے بڑے ماہرین کو بلا نا بہت بڑے اخراجات کا متقاضی ہوتا تھا جس کو وہ برداشت نہیں کر سکتے تھے۔اور پھر ایک شوصرف ایک ہی جگہ دکھایا جاسکتا تھا مگر اب ایک شو سے ہزاروں فلمیں تیار کر کے سارے ملک میں پھیلا دی جاتی ہیں اور بڑے بڑے ما ہرفن گویوں کو بلایا جاتا ہے۔اس لیے تھیٹر سے سینما کا ضرر بہت زیادہ ہوتا ہے۔چند دن ہوئے مجھے ملتان سے ایک دوست کا خط آیا ہے کہ احمدی نو جوانوں میں سینما دیکھنے کا رواج پھر بڑھتا چلا جاتا ہے اس لیے ضرورت ہے کہ اس کی روک تھام کی جائے۔مجھے تعجب آتا ہے کہ یہ نوجوان اتنے جاہل کیوں ہو گئے کہ انہیں اپنی تاریخ کا بھی پتا نہیں۔اگر وہ پڑھے لکھے ہوتے اور انہیں تاریخ سے ذرا بھی واقفیت ہوتی تو انہیں معلوم ہوتا کہ بغداد بھی گانے بجانے سے تباہ ہوا ہے۔جب ہلاکو خان نے بغداد پر حملہ کیا تو بادشاہ کی اُس وقت یہی آواز آتی تھی کہ گانے والیوں کو بلاؤ ، گانے والیوں کو بلا ؤ، بغداد پر کوئی حملہ نہیں کر سکتا۔جو حملہ کرے گا وہ خود تباہ ہو جائے گا۔لیکن جب اُس سے کچھ نہ ہوسکا تو ہلاکو نے اپنا ایک آدمی اُس کے پاس بھجوایا اور کہا کہ مجھے آ کر ملو مستعصم باللہ جو بغداد کا آخری بادشاہ تھا وہ ہلاکو کے اس پیغام پر اسے ملنے کے لیے گیا۔ہلاکو خان نے اُس کے پہنچتے ہی حکم دے دیا کہ اسے قتل کر دیا جائے۔پھر اُس نے اس کے ولی عہد کو مار ڈالا اور اس کے بعد بغداد پر حملہ کر کے اٹھارہ لاکھ آدمی ایک دن میں قتل کر دئیے اور شاہی خاندان کے جو افراد وہاں تھے اُس میں سے کوئی ایک فرد بھی نہ چھوڑا سب کو ہلاک کر دیا تا کہ آئندہ تخت کا کوئی دعویدار کھڑا نہ ہو۔غرض خلافت عباسیہ تباہ ہوئی تو گانے بجانے کی وجہ سے۔اسی طرح مغل تباہ ہوئے تو گانے بجانے کی وجہ سے، محمد شاہ رنگیلے کو رنگیلا کیوں کہا جاتا ہے؟ اسی لیے کہ وہ گانے بجانے کا بہت شوقین تھا۔بہادرشاہ جو ہندوستان کا آخری مغل بادشاہ تھا وہ بھی اسی گانے بجانے کی وجہ سے تباہ ہوا۔انگریزوں کی فوجیں کلکتہ سے بڑھ رہی تھیں، الہ آباد سے بڑھ رہی تھیں، کان پور سے بڑھ رہی تھیں، میرٹھ سے بڑھ رہی تھیں،سہارنپور سے بڑھ رہی تھیں اور بادشاہ کے حضور گانا بجانا ہورہا تھا۔آخر انہوں نے اس کے بارہ جی بیٹوں کے سرکاٹ کر اور خوان میں لگا کر اُس کی طرف بھیجے کہ یہ آپ کا تحفہ ہے۔کسی کا ایک بیٹا مر جاتا ہے تو وہ رو رو کر آسمان سر پر اٹھا لیتا ہے مگر بہادر شاہ کے بارہ بیٹوں کے سرکاٹ کر اُس کی طرف بھیجے