خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 176 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 176

$1958 176 خطبات محمود جلد نمبر 39 سے وہاں تبلیغ ہورہی ہے۔اگر صحیح معنوں میں وہاں تبلیغ کی جاتی تو میں سمجھتا ہوں کہ وہاں چھ سات کروڑ احمدی ہونے چاہیں تھے مگر اب تک وہاں صرف بارہ ہزار احمدی ہوئے ہیں۔پھر وہاں کی جماعت نے قطع نظر اس کے کہ میں بیمار ہوں اور میرے لیے لمبا سفر کرنا مشکل ہے یہ ریزولیوشن ، (RESOLUTION) پاس کر کے مجھے بھجوا دیا کہ آپ انڈونیشیا تشریف لائیں حالانکہ میری یہ حالت ہے کہ باوجود اس کے کہ ڈاکٹر مجھے کہتے ہیں کہ ایک دفعہ آپ پھر علاج کے لیے یورپ جائیں میں یورپ کا سفر بھی اختیار نہیں کرتا۔پھر میں انڈونیشیا کس طرح جا سکتا ہوں۔لیکن بعض دفعہ انسان کی موت کے منہ میں بھی اپنے آپ کو ڈالنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے بشرطیکہ وہ خوش ہو مگر میں ایسی جماعت سے کیا خوش ہو سکتا ہوں جس نے تینتیس سال کے عرصہ میں صرف بارہ ہزار احمدی بنائے ہیں۔دانا انسان ہمیشہ پہلے اپنا نمونہ دکھاتے ہیں اور پھر کسی احسان کا مطالبہ کرتے ہیں مگر وہ ایسے آدمی کو جو ستر سال کا ہو چکا ہے اور جس پر سخت بیماری کا بھی حملہ ہو چکا ہے اور جس کے متعلق ڈاکٹر کہتے ہیں کہ ایک دفعہ پھر یورپ جاؤ اور علاج کرواؤ مگر وہ یورپ میں بھی نہیں جاتا اُسے انڈونیشیا آنے کی دعوت دیتے ہیں جہاں علاج کی کوئی سہولتیں میسر نہیں بلکہ یورپ جیسی سہولتیں تو الگ رہیں وہاں پاکستان جیسی ڈاکٹری سہولتیں بھی میسر نہیں ہیں۔جب میں علاج کے لیے یورپ گیا تھا تو اُس سفر نے میری صحت پر بہت ہی اچھا اثر ڈالا تھا۔چنانچہ جب میں واپس آیا تو میری صحت بہت اچھی تھی۔اس کے بعد 1955ء بڑا اچھا گزرا، 1956ء بڑا اچھا گزرا اور مری میں میں قرآن کریم کے ترجمہ کا کام کرتا رہا لیکن 1957 میں پھر کچھ تکلیف شروع ہوئی جو اب تک جاری ہے۔گو پچھلے دنوں ہومیو پیتھی علاج سے کچھ افاقہ ہوا ہے مگر 1955 ء اور 1956 ء والی حالت ابھی تک پیدا نہیں ہوئی۔بہر حال قرآن کریم نے تبلیغ کرنا ہر شخص کا فرض قرار دیا ہے اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ تبلیغ دو طرح ہوتی ہے۔ایک تو اس طرح کہ بعض خاص خاص لوگ اپنے آپ کو تبلیغ کے لیے وقف کر دیتے ہیں جن کے لیے قرآن کریم میں عاکفین اور مہاجرین کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور ایک تبلیغ اس رنگ میں ہوتی ہے کہ ساری جماعت جب بھی اسے موقع ملے تبلیغ میں حصہ لینے کے لیے تیار رہتی ہے۔گویا ایک خاص لوگوں کی جماعت ہوتی ہے اور ایک عام لوگوں کی جماعت ہوتی ہے۔گو عام جماعت کے افراد کو بھی قرآن کریم کہتا ہے کہ تم صرف واقفین پر انحصار نہ رکھو بلکہ ساری