خطبات محمود (جلد 39) — Page 172
172 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 وہاں کے علماء عربی زبان خوب جانتے ہیں اور ہمارا یہ مبلغ زیادہ عربی نہیں جانتا تھا مگر چونکہ دل میں ایمان تھا اس لیے مقابلہ کے لیے تیار ہو گیا اور فیصلہ یہ ہوا کہ عربی میں مباحثہ ہو۔چنانچہ عربی زبان میں مباحثہ ہوا اور نتیجہ یہ ہوا کہ مخالف مولوی سب بھاگ گئے اور انہوں نے کہا ہم احمدیوں سے بحث نہیں کر سکتے۔یہ لوگ تو پاگل ہیں جنہیں ہر وقت مذہبی باتیں کرنے کا ہی جنون رہتا ہے۔تو یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ ہمیں کچھ آتا نہیں۔جب انسان خدا تعالیٰ کے دین کی تائید کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے اور وہ کسی قسم کی قربانی سے بھی دریغ نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ خود اُس کی مدد فرماتا ہے اور اُس کی مشکلات کو دور فرما دیتا ہے۔خواجہ کمال الدین صاحب کو ہی دیکھ لو انہیں نماز پڑھانی بھی نہیں آتی تھی مگر رفتہ رفتہ انہوں نے ایسی قابلیت پیدا کر لی کہ مشہور لیکچرار بن گئے۔مولوی محمد علی صاحب بھی گوایم۔اے، ایل۔ایل۔بی تھے اور کالج کے پروفیسر تھے مگر عربی سے انہیں زیادہ مکس نہیں تھا لیکن رفتہ رفتہ انہوں نے ایسی ترقی کی کہ قرآن کی تفسیر لکھ ڈالی۔تو جب انسان کو کسی کام کی دھت لگ جائے وہ اُس میں ترقی حاصل کر لیتا ہے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انہوں نے بعض مولوی بھی اپنی مدد کے لیے رکھے ہوئے تھے مگر ان کی باتوں کو استعمال کرنے کے لیے بھی تو لیاقت کی ضرورت ہوتی ہے ورنہ ہمارے ملک میں سینکڑوں مولوی پھرتے ہیں وہ کیوں کوئی تفسیر نہیں لکھ سکتے ؟ ڈاکٹر عبد الحکیم پٹیالوی نے بھی اسی شوق کی وجہ سے ترقی کی اور اُس نے قرآن کی تفسیر لکھ دی۔اُس نے حضرت خلیفہ اول سے قرآن سیکھا اور آپ کے درسوں میں شامل ہوتا رہا۔پھر خود بھی کتابوں کا مطالعہ کرتا رہا اور آخر اتنی ترقی کر لی کہ مفسر بن گیا۔پس جماعت کے سب دوستوں کو چاہیے کہ وہ اپنی کوشش اور جدو جہد اور نیک نمونہ کے ذریعہ سے عیسائیت کو شکست دینے کی کوشش کریں۔یہ مت سمجھو کہ عیسائیت تو ساری دنیا میں پھیلی ہوئی ہے ہم اس کو شکست دینے میں کس طرح کامیاب ہو سکتے ہیں۔آج ہی میں قرآن پڑھ رہا تھا کہ مجھے اس کی میں یہ پیشگوئی نظر آئی کہ عیسائیت آخر شکست کھائے گی اور وہ دنیا سے مٹا دی جائے گی۔پس عیسائیت کی ظاہری ترقی کو دیکھ کر مت گھبراؤ۔اللہ تعالیٰ اسلام کی ترقی کے سامان پیدا فرمائے گا اور کفر کو شکست دے گا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اپنے اندر ایمان پیدا کرو۔اور اُس مقصد کو پورا کرنے کے لیے کھڑے ہو جاؤ جس کے لیے خدا نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرمایا ہے“۔