خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 147 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 147

خطبات محمود جلد نمبر 39 147 $1958 تم اس بات سے مت ڈرو کہ اگر یہ لوگ علیحدہ ہو گئے تو چندے کم ہو جائیں گے۔جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دعوی کیا تھا تو اُس وقت کتنے لوگ چندہ دینے والے تھے؟ مگر پھر اللہ تعالیٰ نے اتنی بڑی جماعت پیدا کر دی کہ اب صدر انجمن احمدیہ کا سالانہ بجٹ سترہ لاکھ روپیہ کا ہوتا ہے اور ہم امید کرتے ہیں کہ دو چار سال میں ہمارا بجٹ پچاس ساٹھ لاکھ روپیہ تک پہنچ جائے گا۔پس اگر ایک شخص سے چل کر ہماری جماعت کو اتنی ترقی حاصل ہوئی ہے کہ لاکھوں تک ہمارا ان بجٹ جا پہنچا ہے تو اگر یہ دس پندرہ آدمی نکل جائیں گے تو کیا ہو جائے گا۔ہمیں تو یقین ہے کہ اگر ایک آدمی نکلے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ ہمیں ہزار دے دے گا۔پس ہمیں ان کے علیحدہ ہونے کا کوئی فکر نہیں کی ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ یہ صرف نام کے احمدی نہ ہوں بلکہ عملی طور پر بھی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے ہوں۔مگر یاد رکھو! پردہ سے مُرادوہ پردہ نہیں جس پر پرانے زمانہ میں ہندوستان میں عمل ہوا کرتا تھا اور عورتوں کو گھر کی چاردیواری میں بند رکھا جا تا تھا اور نہ پردہ سے مُراد موجودہ برقع ہے۔یہ برقع جس کا آجکل رواج ہے صحابہ کے زمانہ میں نہیں تھا۔اُس وقت عورتیں چادر کے ذریعہ گھونگھٹ نکال لیا کرتی تھیں۔جس طرح شریف زمیندار عورتوں میں آجکل بھی رواج ہے۔چنانچہ ایک صحابی ایک دفعہ کوفہ کی مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ پردہ کا ذکر آ گیا۔اُس زمانہ میں برقع کی طرز کی کوئی نئی چیز نکلی تھی۔وہ اس کا ذکر کر کے کہنے لگے کہ میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اس کا کوئی رواج نہیں تھا۔اُس زمانہ میں عورتیں چد راوڑھ کر گھونگھٹ نکالا کرتی تھیں جس میں سارے کا سارا منہ چھپ جاتا ہے صرف آنکھیں کھلی رہتی ہیں۔جیسے پرانے زمیندار خاندانوں میں اب تک بھی گھونگھٹ کا ہی رواج ہے۔پس شریعت نے پردہ محض چڈ راوڑھنے کا نام رکھا ہے اور اس میں بھی گھونگھٹ نکالنے پر زور دیا ہے ورنہ آنکھوں کو بند کرنا جائز نہیں۔یہ عورت پر ظلم ہے۔اسی طرح عورت کو اپنے ساتھ لے کر بشر طیکہ وہ پردہ میں ہو سیر کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔میں نے خود حضرت خلیفہ اول سے سنا کہ امرتسر کے سٹیشن پر ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت اماں جان کو اپنے ساتھ لے کر ٹہل رہے تھے کہ مولوی عبدالکریم صاحب بڑے جوش کی حالت میں میرے پاس آئے اور کہنے لگے مولوی صاحب! دیکھیے حضرت صاحب یہاں ٹہل رہے ہیں اور اماں جان ساتھ ہیں۔