خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 110 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 110

110 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 کی دشمنی دور ہو جائے اور ہماری محبت اُن کے دلوں میں پیدا ہو جائے۔مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ دین کے معاملہ میں مداہنت سے کام لیا جائے۔یہ کام تو منافق بھی کر سکتا ہے۔حقیقی ایمان کی علامت یہ ہے کہ جہاں اپنوں اور بیگانوں سے حسن سلوک کیا جائے وہاں دین کے معاملہ میں ایسی غیرت رکھی جائے کہ اگر عزیز سے عزیز وجود کو بھی خدا تعالیٰ کے لیے ترک کرنا پڑے تو انسان اسے فورا ترک کر دے۔صحابہ کو دیکھ لو انہوں نے اپنے ایمان کا ایک عظیم الشان مظاہرہ کیا۔عبداللہ بن ابی بن سلول نے ایک موقع پر کہا تھا اور قرآن کریم میں بھی اس کا ذکر آتا ہے کہ مجھے مدینہ میں داخل ہو لینے دو مدینہ کاسب سے زیادہ معزز شخص یعنی وہ کمبخت خود سب سے زیادہ ذلیل شخص یعنی نَعُوذُ باللہ محمد رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں سے نکال دے گا۔19 یہ بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی پہنچ گئی۔عبد اللہ بن اُبی بن سلول کا بیٹا جس کا پہلا نام حباب تھا مگر بعد میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس و کا نام بھی عبداللہ رکھ دیا تھا بھاگتا ہوا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور اُس نے کہانی یا رسول اللہ! میرے باپ نے ایسی بات کہی ہے اور میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اس کی سزا سوائے قتل کے اور کوئی نہیں ہوسکتی، میں صرف یہ درخواست کرنے کے لیے آیا ہوں کہ اگر آپ نے اسے قتل کرانا ہو تو مجھ سے کرائیں تا ایسا نہ ہو کہ کوئی اور صحابی اسے قتل کرے تو بعد میں کسی وقت مجھے جوش آجائے اور میں اُسے قتل کر بیٹھوں اس لیے کہ اس نے میرے باپ کو مارا ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں۔اب گورسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا یہ گناہ معاف کر دیا تھا تو مگر اس کے بیٹے نے اسے معاف نہ کیا۔جب لشکر مدینہ کو واپس چلا تو اُس کا بیٹا جلدی سے آگے نکل کر شہر کے دروازہ پر کھڑا ہو گیا۔تلوار اُس کے ہاتھ میں تھی۔جب عبد اللہ بن اُبی بن سلول مدینہ میں داخل ہونے لگا تو اُس کے بیٹے نے کہا میں تمہیں اُس وقت تک شہر میں داخل نہیں ہونے دوں گا جب تک تو یہاں کھڑا ہو کر اس بات کا اقرار نہ کرے کہ تو مدینہ کا سب سے زیادہ ذلیل انسان ہے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے سب سے زیادہ معزز شخص ہیں۔اگر تو نے اس بات کا اقرار نہ کیا تو خدا کی قسم! میں اس تلوار سے تیرے ٹکڑے ٹکڑے کر دوں گا اور اس بات کی قطعاً پروا نہیں کروں گا کہ تو میرا باپ ہے۔بیٹے کے منہ سے یہ بات سن کر وہ بہت گھبرایا اور جھٹ گھوڑے سے اتر آیا اور مدینہ کے دروازہ میں کھڑے ہو کر اُس نے کہا اے لوگو! سن لو اور گواہ رہو کہ میں مدینہ کا سب سے زیادہ ذلیل