خطبات محمود (جلد 39) — Page 54
خطبات محمود جلد نمبر 39 54 $1958 لیٹ گئے۔اس کے بعد پھر آپ کو اُٹھنا نصیب نہیں ہوا یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی۔6 تو دیکھو آپ کا دماغ وفات تک کام کر رہا تھا مگر آپ کی فعال زندگی اُس وقت تک ہی رہی ب آپ نے آخری حج کیا۔حجتہ الوداع تک آپ کو فعال زندگی ملی مگر اس کے بعد آپ کو فعال زندگی نصیب نہیں ہوئی۔ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ آپ کی وفات نمونیا (PNEUMONIA) ہوئی ہے۔تو دیکھو آپ کا دماغ بیماری کی حالت میں بھی کام کر رہا تھا۔اس لیے آپ کمرہ سے باہر آگئے اور کھڑکی کا پردہ اُٹھا کر مسجد کے اندر جھانکا مگر جب آپ نے دیکھا کہ لوگ آپ کے لیے بیتاب ہو رہے ہیں تو آپ نے خیال فرمایا کہ مجھے دیکھ کر ان کو اور صدمہ ہوگا اس لیے آپ اندر تشریف لے گئے اور واپس جا کر چار پائی پر لیٹ گئے۔بعد میں آپ کو چار پائی سے اُٹھنے کی توفیق نصیب نہیں ہوئی۔آپ بیماری میں بات بھی نہیں کر سکتے تھے۔ہاں ! اشاروں سے کام لے سکتے تھے۔اس سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ آپ کا دماغ اُس وقت تک کام کر رہا تھا۔چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے کہ حضرت عبد الرحمان بن ابی بکر ایک دن مسواک لیے ہوئے اندر داخل ہوئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھ کر ایسا اشارہ کیا جس سے حضرت عائشہؓ نے سمجھا کہ آپ مسواک کرنا چاہتے ہیں۔چنانچہ انہوں نے مسواک لی۔پھر آپ نے اشارہ کیا کہ میرے دانت چبا نہیں سکتے تم اپنے دانتوں سے چبا کر دو۔چنانچہ انہوں نے مسواک چبا کر آپ کی خدمت میں پیش کی۔7 غرض وفات تک آپ کا دماغ کام کرتا رہا مگر آپ کی فعال زندگی کا ثبوت جس میں آپ کے ہاتھ اور پاؤں بھی کام کرتے رہے حجتہ الوداع تک ملتا ہے۔آپ خود سب لوگوں کو ساتھ لے کر گئے اور انہیں حج کروایا۔بلکہ ایک موقع پر ایسا ہوا کہ آپ کی سواری نے ٹھو کر کھائی اور آپ گر گئے اور ان مستورات بھی جو آپ کے ساتھ سوار تھیں گر گئیں۔ایک انصاری نے اونٹ پر سے چھلانگ لگا دی اور وہ آپ کی طرف دوڑے اور کہا میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں ! خدا تعالیٰ آپ کو سلامت رکھے! آپ نے فرمایا مجھے چھوڑ دو۔عورتیں کمزور ہوتی ہیں اُن کی طرف جاؤ اور اُن کو اُٹھانے کی کوشش کرو۔یہ فعال زندگی تھی جس میں آپ سمجھتے تھے کہ گو میں گر گیا ہوں مگر اب بھی میں طاقت رکھتا ہوں کہ کھڑا ہو جاؤں۔ضرورت عورتوں کی مدد کی ہے جو آپ کھڑی نہیں ہوسکتیں۔پس اگر دوستوں کی دعائیں ہوں تو میں سمجھتا ہوں کہ تھوڑے ہی دنوں میں افاقہ ہونا شروع