خطبات محمود (جلد 39) — Page 44
44 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 شامل کرنے کی کوشش کرتا تو اب تک یہاں پچاس ہزار سے زیادہ احمدی ہوتے۔لیکن مجھے افسوس ہے کہ اس طرف کوئی توجہ نہیں اور ہماری جماعت کے قیام کی جو اصل غرض ہے اس کی پروا نہیں کی جاتی۔جس کی وجہ سے ان کی حالت ایک جیسی چلی جاتی ہے۔انسان کو چاہیے کہ یا تو وہ اخلاص کے ساتھ ایک سچائی کو قبول کرے اور یا پھر اسے چھوڑ دے۔خدا تعالیٰ کو کسی بندے کی احتیاج نہیں۔اللہ تعالیٰ قرآن کی کریم میں فرماتا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص مرتد ہو جائے تو ہم اُس کے بدلہ میں ایک نئی قوم لے آئیں گے جو خدا اور اُس کے رسول سے محبت رکھنے والی اور اُس کے دین کے لیے ہر قسم کی قربانیاں نی کرنے والی ہوگی۔1 پس آپ لوگ احمدی بن کر اس وقت جماعت کو کوئی فائدہ نہیں پہنچار ہے۔اگر خدانخواستہ مرتد ہو کر الگ ہو جاتے تو اس کا یہ فائدہ پہنچتا کہ ایک ایک شخص کے بدلہ میں جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے ایک ایک قوم آجاتی جو بعض دفعہ کئی کئی لاکھ کی بھی ہوتی ہے۔سندھ میں ہی چانڈیہ خاص کیلی ،گرگیز اور بر وغیرہ کئی تو میں ہیں اور ہر قوم کے پانچ پانچ ، سات سات، آٹھ آٹھ لاکھ افراد ہیں بلکہ چانڈیوں کی تعداد تو اس سے بھی زیادہ ہے۔سو آپ لوگوں کو اپنی حالت میں تبدیلی پیدا کرنی چاہیے اور اپنے فرائض کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔میں نے ایسے ہی لوگوں کو دیکھ کر جو اپنے فرائض کی طرف پوری توجہ نہیں کر رہے وقف جدیدی کی تحریک جاری کی ہے جس کے لیے خود میں نے بھی دس ایکڑ زمین کا وعدہ کیا ہے اور ارادہ ہے کہ یہاں بھی ایک مرکز قائم کر دیا جائے۔لابینی میں جو مرکز کھولا گیا ہے اُس کے ذریعہ اب تک چار آدمی خدا تعالیٰ کے فضل سے احمدیت قبول کر چکے ہیں اور ڈیڑھ سو آدمی احمدیت میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔یہ لوگ ادنی اقوام میں سے ہیں جن کو امریکن لوگ عیسائی بنارہے ہیں۔اگر پندرہ سولہ دن کی کے عرصہ میں ایک مرکز نے ایک سو چون آدمی تیار کر دیئے ہیں تو اس کے معنے یہ ہیں کہ مہینہ میں تین سو آدمی شامل ہو جائے گا مگر یہ تعداد بھی کم ہے۔ہماری سکیم یہ ہے کہ ہر مرکز سال میں پانچ ہزار آدمیوں کو اسلام پر پختہ کرے اور ان کی اصلاح اور تعلیم کے کام کو مکمل کرے۔اس وقت تک تین سوستر کے قریب وقف کی درخواستیں آچکی ہیں۔اگر تین سوستر جگہ مراکز قائم کر دیئے جائیں اور ہر مرکز کے ذریعہ پانچ ہزار آدمی سالانہ اسلامی تعلیم پر پختگی حاصل کر کے سلسلہ میں شامل ہو تو ایک سال میں اٹھارہ لاکھ پچاس ہزار آدمی اسلام کی حقیقی تعلیم سے روشناس ہو سکتا ہے اور ان کے اندر ایک نئی زندگی اور