خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 31 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 31

$1958 31 خطبات محمود جلد نمبر 39 سے لے کر تئیس سال تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ذاتی کام نہیں کیا۔صرف دین کی خدمت کرتے رہے اور اسلام کے پھیلانے میں دن رات لگے رہے اور اسی حالت میں فوت ہو گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دل میں دین کی خدمت اور اس کی اشاعت کا اس قدر شوق تھا کہ مرضُ الموت میں آپ نے ایک دن فرمایا کہ میرے اور مسجد کے درمیان جو پردہ حائل ہے اُسے ہٹا دو۔میں دیکھنا چاہتا ہوں کہ مسلمانوں کا کیا حال ہے۔جب پردہ ہٹایا گیا اور صحابہ جو نماز کے لیے جمع تھے انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو وہ شوق کے مارے دیوانے ہو گئے اور انہوں نے بے تحاشا اپنی خوشی کا اظہار کرنا شروع کر دیا مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت چونکہ زیادہ نا ساز تھی اس لیے آپ نے فرمایا اب پردے گرادو اور باہر کہلا بھیجا کہ میرا دل تو چاہتا تھا کہ آؤں مگر میں کمزوری کی وجہ سے نہیں آسکتا۔میری جگہ ابوبکر نماز پڑھا دیں۔3 غرض یہ ایک قرآنی ہدایت ہے جس کو ہمیشہ مدنظر رکھنا ضروری ہے اور ہمارا بھی فرض ہے کہ دنیا میں جتنے انبیاء گزرے ہیں جن میں خصوصیت سے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم شامل ہیں اُن کے نمونہ کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے ہم اسلام کی خدمت بجالائیں کیونکہ اس وقت سوائے اسلام کے اور کوئی سچا دین نہیں۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ ایک دوسری جگہ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ اِنَّ الدِّين عِنْدَ اللهِ الْإِسْلَام 4 یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس وقت صرف اسلام ہی حقیقی دین ہے۔پس قرآن کے نزول کے بعد اب سوائے اسلام کے اور کوئی دین نہیں رہا۔اگر عیسی کے پیرو عیسی کے پیچھے چلتے ہیں اور موسی کے پیر وموشی کے پیچھے چلتے ہیں تو ہمارے لیے یہ حکم نہیں کہ ہم عیسائیت کی تبلیغ ک یا یہودیت کو پھیلانے کی کوشش کریں بلکہ ہمارے لیے یہی حکم ہے کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے چلیں اور آپ کے لائے ہوئے دین کی اشاعت کے لیے اپنی جانیں تک لڑا دیں۔حقیقت یہ ہے کہ اس وقت اسلام کی ویسی ہی نازک حالت ہے جیسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے ایک فارسی قصیدہ میں فرمایا کہ ہر طرف کفرست جوشاں ہمچو افواج یزید دین حق بیمار و بیکس ہیچو زین العابدین 5 جیسے کر بلا کے وقت ہوا تھا کہ یزید کی فوجیں غالب آ رہی تھیں اور امام حسین کا لڑکا