خطبات محمود (جلد 39) — Page 350
$1959 350 خطبات محمود جلد نمبر 39 میں اتنا چندہ سال میں بھی جمع نہیں ہوتا تھا۔مجھے یاد ہے جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اس بات کا علم ہوا کہ لنگر خانہ کا خرچ ڈیڑھ سوروپیہ ماہوار تک پہنچ گیا ہے تو آپ بہت گھبرائے کہ یہ رقم کہاں سے آئے گی۔پھر اللہ تعالیٰ جماعت کی آمد میں دن بدن ترقی عطاء کرتا چلا گیا۔صرف میری خلافت کے شروع زمانہ میں سلسلہ پر مالی لحاظ سے ایک نازک دور آیا۔جب میں خلیفہ ہوا تو خزانہ میں صرف چند آنے تھے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ کے چندوں میں ترقی ہوتی چلی گئی اور ہر سال پہلے سال سے زیادہ چندہ جمع ہوتا رہا اور اب بینکوں اور جماعت کے اپنے خزانہ میں جو روپیہ اس وقت جمع ہے وہ دس لاکھ سے اوپر ہے اور یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے۔خدا تعالیٰ کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے یہ وعدہ تھا کہ يَنْصُرُكَ رِجَالٌ نُوحِي إِلَيْهِمْ مِنَ السَّمَاءِ 1 یعنی تیری مدد ایسے لوگ کریں گے جنہیں ہم آسمان سے وحی کریں گے۔سوخدا تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہورہا ہے ورنہ لوگوں کا خیال تھا کہ یہ سلسلہ زیادہ دیر تک نہیں چلے گا، یہ چند دن کا کھیل ہے جو ختم ہو جائے گا۔کل ہی ایک شخص مجھے ملنے کے لیے آیا۔جب اُس نے اپنا وطن بتایا تو مجھے ایک واقعہ یاد آ گیا۔ضلع گجرات کے ایک گاؤں چک سکندر کے بعض لوگ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں قادیان آیا کرتے تھے۔اُن کے بڑے بڑے قد تھے۔اُس زمانہ میں ابھی بہشتی مقبرہ نہیں بنا تھا اور لوگ تبرک کے طور پر باغ اور مساجد دیکھنے چلے جایا کرتے تھے۔وہ بھی باغ دیکھنے کے لیے اُس سڑک پر جارہے تھے جو بہشتی مقبرہ کو جاتی ہے۔اُس زمانہ میں اس سڑک پر پختہ پل نہیں بنا تھا۔حضرت نانا جان نے لوہے کی ریلیں ڈال کر اُس جگہ پار گزرنے کے لیے راستہ بنایا ہوا تھا۔اس پل کے قریب ہماری سوتیلی والدہ کے بھائی مرزا علی شیر صاحب باغی لگایا کرتے تھے۔وہ مذہبی قسم کے آدمی تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے شدید مخالف کی تھے۔ممکن ہے اُن کی مخالفت کا یہ سبب ہو کہ آپ ان کی بہن پر سوکن لے آئے تھے لیکن بہر حال وہی آپ کے بڑے سخت مخالف تھے۔انہوں نے چک سکندر کے ان لوگوں کو باغ کی طرف جاتے دیکھا تو انہیں آواز دے کر اپنے پاس بلایا۔اُن کے آواز دینے پر ان میں سے ایک آدمی جو باقی ساتھیوں سے کچھ فاصلہ پر تھا یہ مجھ کہ یہ بڑے بزرگ ہیں ان کی بات سن لی جائے ان کے پاس گیا۔مرزا علی شیر صاحب نے اس سے کہا میاں! تم کہاں سے آئے ہو اور کس لیے آئے ہو؟ اس شخص نے جواب دیا ہم