خطبات محمود (جلد 39) — Page 219
$1958 219 خطبات محمود جلد نمبر 39 حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةٌ میں ہمیں یہ دعا سکھلائی گئی ہے کہ الہی ! ہمیں دنیا میں بھی عزت بخش اور آخرت میں بھی ہمارے مقام کو بلند کر۔اگر ہمیں دنیا ملے تو ہم اسے اپنی ذات کے لیے استعمال نہ کریں بلکہ تیرے دین کی شوکت قائم کرنے کے لیے استعمال کریں اور تیری رضا اور خوشنودی کے لیے اسے صرف کریں۔اگر ایسا ہو تو پھر انسان کو دنیا میں بھی عزت ملتی ہے اور خدا تعالیٰ کے حضور بھی اس کا رتبہ بڑھتا ہے۔پس ہمیں یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہماری اولادوں کے ساتھ قیامت تک رہے تا کہ اُس کا نام ہماری نسلیں ہمیشہ بلند کرتی رہیں۔وہ دنیا کے لیے ایک دوسرے کا گلا نہ کاٹیں، وہ دنیا کے لیے ایک دوسرے سے لڑیں نہیں بلکہ دنیا کے ملنے پر دین کی اور زیادہ خدمت کریں اور ہر قسم کی عزت ملنے کے باوجود دین کی خدمت کرنے میں فخر محسوس کریں۔اور اگر کوئی بادشاہ بھی ہو جائے تو وہ فقیر سے کی زیادہ متواضع ہو۔اب جو دنیا میں سید کہلاتے ہیں نا معلوم وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسل میں سے ہیں یا نہیں ممکن ہے ان میں سے بعض کسی فقیر کی نسل سے ہوں اور کہلاتے سید ہوں لیکن ان میں کتنا کبر پایا جاتا ہے۔ہماری والدہ خواجہ میر درد کی اولاد میں سے تھیں جو مسلمہ سید تھے۔مجھے یاد ہے ایک دفعہ ہمارے ہاں ایک سیدانی مانگتی ہوئی آگئی اور کہنے لگی کہ مجھے پیاس لگی ہے پانی پلاؤ۔ہماری والدہ صاحبہ نے ایک خادمہ سے کہا کہ اسے پانی پلا دو۔اُس نے گھڑے میں سے گلاس بھر کر دیا تو اس و نے بڑے زور سے گلاس کو پرے پھینک دیا اور کہا ”سیدانی نوں تو امتی دے گلاس وچ پانی پلاندی ہیں، یعنی میں تو سیدانی ہوں مجھے امتی کے گلاس میں کیوں پانی دیتی ہو۔ہماری والدہ صاحبہ نے ہنس کر کہا کہ میں بھی سیدانی ہوں۔اب اُس کے سیدانی ہونے میں تو ھبہ ہی تھا نا معلوم وہ بچی تھی یا جھوٹی مگر ہماری والدہ تو حقیقتا سیدانی تھیں۔خواجہ میر درد کی اولاد میں سے تھیں اور ان کے والد نے یہ پیشگوئی کی ہوئی تھی کہ ہمارا سلسلہ نسب ایک دن مہدی آخر الزمان کے ساتھ جا ملے گا۔چنانچہ ایسا ہی ہوا۔مخالف حالات میں ان کی یہ پیشگوئی پوری ہوئی اور اماں جان کی حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شادی ہوگئی اور ان کا شجرہ نسب مہدی موعود سے آکر مل گیا۔تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہمیشہ ان لوگوں کو برکتیں ملتی ہیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بچی اولاد ہیں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ حضرت امام حسن اور حسین بھی سید تھے مگر ابو بکر اور عمران سے کم