خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 186 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 186

186 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 پھر انہی ایام میں جبکہ ابھی فتنہ کے آثار باقی تھے سپرنٹنڈنٹ پولیس ضلع جھنگ ڈی۔ایس۔پی کو ساتھ لے کر میرے مکان کی تلاشی کے لیے آئے۔چونکہ سپرنٹنڈنٹ پولیس ڈی۔ایس۔پی سے گورنر پنجاب کے نوٹس والا واقعہ سن چکے تھے اور وہ دیکھ چکے تھے کہ کس طرح خدا تعالیٰ نے چند دنوں کے اندر اندر میری بات کو پورا کر دیا اور مسٹر چندریگر کو پنجاب سے رخصت کر دیا گیا اور پھر اس سے پہلے میری طرف سے یہ بھی شائع ہو چکا تھا کہ میرا خدا میری مدد کے لیے دوڑا چلاتی آ رہا ہے اس لیے وہ اتنے متاثر تھے کہ مجھے کہنے لگے ہمیں حکم تو یہ ہے کہ عورتوں والے حصہ کی بھی تلاشی کی لی جائے مگر مجھے کسی تلاشی کی ضرورت نہیں۔میں گورنمنٹ کو لکھ دوں گا کہ میں نے تلاشی لے لی ہے۔میں نے کہا اگر آپ ایسا لکھیں گے تو میں اخبار میں اعلان کر دوں گا کہ یہ بالکل غلط ہے، انہوں نے کوئی کی تلاشی نہیں لی۔آپ اندر چلیں اور ایک ایک چیز کو دیکھیں تا کہ آپ کے دل میں کوئی شبہ نہ رہے۔چنانچہ وہ اندر گئے اور انہوں نے ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس سے کہا کہ وہ کاغذات کو دیکھ لیں۔غرض اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مومنوں کو خبر دے دو کہ ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کا بڑا فضل ہے اور کوئی شخص ان کے خلاف اپنی شرارتوں میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زندگی میں بھی اللہ تعالیٰ کی نصرت اور اس کی تائید کے ایسے کئی واقعات نظر آتے ہیں۔آپ پر ایک دفعہ ایک عیسائی پادری ڈاکٹر مارٹن کلارک نے یہ مقدمہ دائر کر دیا کہ آپ نے اسے قتل کروانے کے لیے ایک آدمی بھجوایا تھا۔مارٹن کلارک کو ایک انگریز سپر نٹنڈنٹ پولیس نے اپنا لے پالک بنایا ہوا تھا اور اس وجہ سے گورنمنٹ اُس کا اُسی طرح لحاظ کرتی تھی جس طرح وہ انگریزوں کا لحاظ کیا کرتی تھی۔ڈاکٹر مارٹن کلارک اور اُس کے ساتھیوں نے آپ کے خلاف یہ نالش ڈپٹی کمشنر ضلع امرتسر کی عدالت میں دائر کی اور اس نے آپ کے نام وارنٹ جاری کر دیا لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت ہے کہ وارنٹ کسی کاپی میں پڑا رہا اور گورداسپور بھجوایا ہی نہ گیا۔کچھ عرصہ کے بعد جب ان لوگوں نے پھر ڈپٹی کمشنر کو توجہ دلائی تو اُس نے ضلع گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر کولکھا کہ میں نے اتنا عرصہ ہوا افلاں شخص کے نام وارنٹ جاری کیا تھا لیکن مجھے اس کا کوئی جواب نہیں آیا۔مسٹر ڈگلس اُس وقت گورداسپور کے ڈپٹی کمشنر تھے۔انہوں نے جواب دیا کہ اول تو میرے پاس آپ کی طرف سے کوئی وارنٹ آیا ہی نہیں۔دوسرے ملزم چونکہ میرے علاقہ میں رہتا ہے اس لیے اُس کے نام وارنٹ جاری کرنے کا آپ کو کوئی اختیار نہیں۔