خطبات محمود (جلد 39) — Page 4
$1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہے اس لیے آہستہ آہستہ رقم آنی شروع ہو جائے گی۔جو رقم میں نے تجویز کی ہے وہ بہت معمولی ہے یعنی صرف چھ روپیہ سالانہ ہے۔تحریک جدید میں اس وقت ہیں بائیس ہزار آدمی چندہ دے رہے ہیں۔اگر زور دیا جائے تو کوئی بعید نہیں کہ اس سکیم میں ایک لاکھ آدمی چندہ دینے لگ جائیں۔تحریک جدید کی رقم بہت زیادہ ہوتی ہے۔اس میں بعض لوگ پچاس پچاس، ساٹھ ساٹھ بلکہ سو سو روپیہ بھی دیتے ہیں۔یہ رقم چونکہ کم ہے اس لیے کوئی بعید نہیں کہ اس سکیم میں حصہ لینے والے ایک لاکھ ہو جائیں۔اور اگر ایک لاکھ احمدی چھ روپیہ سالانہ کے حساب سے چندہ دے تو چھ لاکھ روپیہ آ جاتا ہے اور زیادہ سے زیادہ خرچ جو ایک واقف زندگی پر اس سکیم کے ماتحت کیا جائے گا وہ ساٹھ روپیہ ماہوار ہے۔گویا دس واقفین زندگی پر سات ہزار دو سو روپیہ سالانہ خرچ آئے گا بلکہ اگر کم سے کم رقم دی جائے یعنی چالیس روپیہ ماہوار تو دس واقفین پر چار ہزار آٹھ سو روپے سالانہ خرچ آئے گا اور سو واقفین چار لاکھ اسی ہزار روپے میں رکھے جاسکتے ہیں۔بلکہ میں سمجھتا ہوں اگر پورے طور پر اس سکیم پر توجہ دیتی جائے تو اس میں حصہ لینے والوں کی تعداد ڈیڑھ لاکھ تک بھی پہنچ سکتی ہے۔اور اگر ڈیڑھ لاکھ آدمی چھ روپیہ سالانہ کے حساب سے چندہ دے تو نو لاکھ روپیہ سالانہ آمد ہوتی ہے۔جس کے معنے یہ ہیں کہ ماہوار پچھتر ہزار روپیہ آ جائے گا۔میں نے جو سکیم پیش کی ہے وہ یہ ہے کہ فی الحال صرف دس واقفین لیے جائیں اور انہیں چالیس سے ساٹھ روپیہ تک ماہوار گزارہ دیا جائے۔اگر نو لاکھ روپیہ سالانہ آمد ہو جائے تو اس سے کئی گنا زیادہ واقفین رکھے جاسکتے ہیں کیونکہ ہر ایک واقف زندگی کو اگر ساٹھ روپے ماہوار دیں تو پچھتر ہزار میں بارہ سو پچاس مبلغ رکھے جا سکتے ہیں۔اور جب صحیح رنگ میں کام شروع ہو جائے گا تو ڈیڑھ لاکھ تو کیا میرا خیال ہے پانچ چھ لاکھ احمدی اس سکیم میں چندہ دینے لگ جائیں گے اور پھر ممکن ہے کہ وہ چندہ بڑھا کر دینے لگ جائیں۔اگر ہر ایک آدمی میرے بتائے ہوئے چندہ سے دو گنا یعنی بارہ روپیہ سالانہ دے اور جماعت کے چھ لاکھ افراد چندہ دیں تو بہتر لاکھ روپیہ سالانہ آمد ہو جاتی ہے یعنی چھ لاکھ روپیہ ماہوار۔اور اس میں ہم دس ہزار مبلغ رکھ سکتے ہیں۔اور دس ہزار مبلغ رکھنے سے ملک کی کوئی جہت ایسی نہیں رہتی جہاں ہماری رُشد و اصلاح کی شاخ نہ ہو۔پھر یہ بھی ممکن ہے کہ مشرقی بنگال والے اپنا بوجھ خود اٹھا لیں اور وہ خود اس سکیم کے لیے رقم جمع کر لیں۔ایسٹ بنگال کا رقبہ صرف چون ہزار مربع میل ہے۔اگر ایک لاکھ آدمی اس سکیم میں حصہ لے تو اُن کا کام چل سکتا ہے بلکہ