خطبات محمود (جلد 39) — Page 129
$1958 129 خطبات محمود جلد نمبر 39 سامنے بیان کیا اور اس پر ایک تقریر کی۔صبح کے وقت جب میں نے اپنی اس رویا پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ خدا تعالیٰ کے تصور کے الفاظ اختصار ابولے گئے ہیں ورنہ اس سے مُراد خدا تعالیٰ سے ملنے کا تصورتھا۔چنانچہ میں نے اُن کے سامنے جو تقریر کی وہ یہ ھی کہ دیکھو! مچھلی پانی میں رہتی ہے لیکن اس پانی پر جو سورج کی شعاعیں گرتی ہیں یا دریا میں بہنے والی ریت کے ذرات سے جو چمک پیدا ہوتی ہے وہ آہستہ آہستہ مچھلی پر ایسا اثر ڈالتی ہے کہ اس پر چانے 3 پڑ جاتے ہیں۔در حقیقت یہ چانے اس لیے ہوتے ہیں کہ دیر تک اس پر ریت کی ای چمک اور سورج کی شعاعوں کا اثر ہوتا رہتا ہے اور آخر اس کے جسم پر بھی ویسی ہی چمک آ جاتی ہے۔اگر سنہری ریت ہو تو یہ چانے سنہری بن جاتے ہیں۔چنانچہ کئی مچھلیوں پر میں نے خود سنہری رنگ کے چانے دیکھے ہیں۔بلکہ بعض دفعہ ان پر سات سات، آٹھ آٹھ رنگ کے چانے ہوتے ہیں اور بعض دفعہ تو ایسے نیلے رنگ کا چانہ ہوتا ہے کہ یوں معلوم ہوتا ہے کہ فیروزہ 4 ہے۔پھر میں کہتا ہوں دیکھو! جسم جو ایک کثیف چیز ہے اگر اس اتصال کے نتیجہ میں دوسری چیزوں کا اثر قبول کر لیتا ہے تو روح جو ایک نہایت ہی لطیف چیز ہے وہ کیوں اثر قبول نہیں کرے گی۔پھر میں دوسرے مذہب پر اسلام کی فضیلت بیان کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ دیکھو! بدھ مذہب نے صرف یہ بتایا ہے کہ خدا تعالیٰ سے اتصال پیدا ہو سکتا ہے مگر اتصال پیدا کرنے کا طریق اُس نے نہیں بتایا اور جو بتایا ہے وہ اتنا لمبا ہے کہ انسان کے لیے اُس پر عمل ممکن نہیں۔وہ کہتے ہیں کہ بدھ ساٹھ سال تک اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کی کرنے کے لیے ایک جنگل میں بانس کے درخت کے نیچے بیٹھا اور خدا تعالیٰ کی عبادت اور ذکر الہی میں اتنا محو ہوا کہ اُس کے نیچے سے ایک درخت نکلا جو اُس کے جسم کو چیرتا ہوا سر سے نکل گیا اور اُسے پتا تک نہ لگا۔اب یہ ایک لایعنی سی بات ہے جسے عقل قبول نہیں کر سکتی۔لیکن اسلام نے نہ صرف ی وصال الہی کا تصور بیان کیا ہے بلکہ وہ رستہ بھی بتایا ہے جس پر چل کر انسان خدا تعالیٰ تک پہنچ سکتا ہے۔مثلاً بدھ نے دُعا کی قبولیت پر کوئی زور نہیں دیا صرف نروانا 5 پر زور دیا ہے یعنی اس نے کہا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے نفس کی تمام خواہشات کو نکال دے حالانکہ خدا تعالیٰ کے قرب کی خواہش بھی تو ایک خواہش ہی ہے۔اگر وہ سب خواہشات کو نکالے گا تو یہ خواہش کیسے باقی رہ سکتی ہے۔پس بدھ نے متضاد بات کہی ہے لیکن اسلام کہتا ہے کہ خدا کے ملنے سے انسان کے اندر بھی خدائی صفات