خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 345 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 345

$1959 خطبات محمود جلد نمبر 39 345 افاقہ ہونے کی بجائے زیادتی ہوگئی ہے اس لیے اس ہفتہ جن صحابیوں اور موصی عورتوں اور مردوں کے جنازے آئے اُن کی نماز جنازہ میں نہیں پڑھا سکا اور آج بھی مجھے تکلیف زیادہ ہے اس لیے اُن کی نماز جنازہ غائب نہیں پڑھا سکتا۔چونکہ میں نے اگلے ہفتہ سندھ جانا ہے اس لیے میں کوشش کروں گا کہ اگلے جمعہ ان سب کی نماز جنازہ غائب پڑھا دوں۔دوست تمام مرحومین کے لیے چاہے وہ صحابی تھے یا غیر صحابی ،موصی تھے یا غیر موصی نماز جمعہ میں دُعا کر دیں کہ خدا تعالیٰ ان کی مغفرت کرے اور ان ان کے درجات کو بلند کرے، ان کے رشتہ داروں پر اپنا فضل نازل کرے اور انہیں اپنی پناہ میں رکھے۔دوسری بات میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ دفتر تحریک جدید والوں نے مجھے اطلاع دی ہے کہ وعدوں کی آخری تاریخ اس دفعہ 28 فروری مقرر ہے مگر اس وقت تک وعدے بہت کم آئے ہیں۔دوستوں کو چاہیے کہ وہ جلد سے جلد تحریک جدید کے وعدے بھجوائیں اور 28 فروری سے پہلے پہلے ان وعدوں کی مقدار کو پچھلے سالوں سے بڑھانے کی کوشش کریں۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تحریک جدید کا کام زیادہ تر پاکستان سے باہر ہے اور چونکہ اس کے لیے گورنمنٹ کی طرف سے ایکسچینج ملنے میں وقتیں ہیں اس لیے شاید دوستوں کا یہ خیال ہو کہ ابھی وعدے بھیجنے کی ضرورت نہیں مگر ان کا یہ خیال درست نہیں۔گورنمنٹ کے حالات بدلتے رہتے ہیں۔اگر کل کو گورنمنٹ کے حالات سدھر جائیں اور وہ اون ایکسچینج دینے کے لیے تیار ہو جائے تو اگر تحریک جدید کے پاس روپیہ ہی نہ ہوا تو وہ ایکسچینج حاصل کر کے باہر روپیہ کس طرح بھیجے گی؟ اس لیے وعدے بہر حال آنے چاہیں اور چندہ کی وصولی بھی باقاعدہ ہونی چاہیے تا کہ جب بھی گورنمنٹ ایچینچ دے تحریک جدید روپیہ باہر بھیج سکے۔اگر گورنمنٹ نے ایکسچینج منظور کر لیا اور تحریک جدید رو پیہ باہر نہ بھیج سکی تو گورنمنٹ کی نظروں میں بھی ہماری سبکی ہوگی اور مبلغ بھی روپیہ نہ ملنے کی وجہ سے تکلیف اٹھا ئیں گے۔یہی مبلغ ہیں جن کے کام پر ہماری جماعت فخر کرتی ہے۔کل کسی نے اخبار ” صدق جدید کا ایک کٹنگ مجھے بھجوایا تھا کہ احمدی جماعت میں لاکھ برائیاں ہوں لیکن گزشتہ جلسہ پر انہوں نے 51 زبانوں میں جو تقریریں کروائی ہیں اور غیر ممالک میں وہ اشاعت اسلام کے لیے جو جدوجہد کر رہے ہیں ان کا یہی کام اگر ترازو کے ایک پلڑے میں رکھائی جائے اور ان کی برائیوں کو جو لوگ بیان کرتے ہیں دوسرے پلڑے میں رکھا جائے تو ان کے اچھے کام