خطبات محمود (جلد 39) — Page 341
$1959 341 خطبات محمود جلد نمبر 39 کہ ہونٹ اور چائے کی پیالی کے درمیان بھی ایک فاصلہ ہوتا ہے۔بظاہر تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پیالی بھری پڑی ہے اور ہونٹ کے بالکل قریب ہے لیکن اگر بیچ میں موت آجائے تو پھر چائے اور ہونٹ کا فاصلہ اتنا بڑھ جاتا ہے جو کسی طرح پر نہیں کیا جاسکتا۔بہر حال جب نئی فصل نکل آئے گی تب پورا پتا لگے گا کہ فصل اچھی ہوئی ہے یا نہیں۔سولین افسروں کا قاعدہ تھا کہ وہ شہریوں کو اپنا بچہ سمجھتے تھے اور دیہاتیوں سے وہ سوتیلا پن کا سلوک کرتے تھے۔اب بھی یہی ہے کہ لاہور، ملتان، لائکیپور اور چنیوٹ میں تو راشن مقرر ہے اور ربوہ میں نہیں۔یہاں لوگوں کی یہ حالت ہے کہ ایک دانہ گندم کا بھی انہیں نہیں ملتا۔اگر گورنمنٹ نے راھنگ کا انتظام نہ کیا تو نا معلوم کیا حال ہو۔مگر یہ مصیبت تبھی دور ہوگی جب اگلی فصل کٹ جائے گی اور وہ مئی جون میں جا کر کٹے گی اور ابھی مئی جون میں چار پانچ ماہ باقی ہیں اور پانچ ماہ تک لوگ زندہ کیسے رہ سکتے ہیں سوائے اِس کے کہ گورنمنٹ جیسے اپنے ذخیروں سے بڑے شہروں کو خوراک مہیا کر رہی ہے اُسی طرح وہ ربوہ کے لیے بھی ایک حصہ مقرر کرے۔جب پچھلی بارشیں ابھی نہیں ہوئی تھیں تو میں نے بہاولپور کے متعلق پڑھا تھا کہ وہاں ایسی فصل ہوئی ہے کہ پچھلے ساٹھ سال میں بھی اتنی اچھی فصل پیدا نہیں ہوئی لیکن بعد کی بارشوں نے ساری فصلیں تباہ کر دیں۔پس تمام جماعت کو چاہیے کہ زرعی پیداوار بڑھانے کی کوشش کرے۔اس کا ایک ذریعہ یہ بھی ہے کہ وہ ہر جگہ ایک سیکرٹری زراعت مقرر کرے جو مرکز میں با قاعدہ رپورٹ بھیجا کرے کہ اس کے علاقہ میں کیا کوشش ہورہی ہے، کھاد کیسے ڈالی جارہی ہے اور کتنے بل دیئے جارہے ہیں۔اگر محنت اور دیانتداری کے ساتھ کام کیا جائے تو ایک سال کے اندر اندر ہمارے ملک کی حالت درست ہو جائے گی اور ہمارے چندے بھی کئی گنا بڑھ سکتے ہیں۔اگر قرآن کریم کے بتائے ہوئے اصول کے مطابق ہی ہماری فصل پیدا ہو تو گواللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اس اندازہ سے بھی فصل بڑھا دیتے ہیں مگر نہ بڑھے تب بھی تحریک اور انجمن کی کئی ارب روپیہ کی آمد ہو جاتی ہے اور ہماری گورنمنٹ کی آمد تو کئی کھرب ہو جاتی ہے مگر ضرورت یہ ہے کہ لوگ تقوی سے کام لیں اور اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں۔اگر وہ ان اللہ تعالیٰ کے حضور جھکیں اور جو تجربات سائنس نے کیے ہیں یا جو تجربات ان کے باپ دادوں کے ہیں اوپر بتایا جا چکا ہے کہ اب افسروں نے حکم دے دیا ہے کہ ربوہ میں بھی راشننگ ہو جائے۔