خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 264 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 264

$1958 264 خطبات محمود جلد نمبر 39 خصائص پائے جائیں جو اُس کام کے مناسب حال ہوں۔پس وَافْعَلُوا الْخَيْرَ کے یہ معنے نہیں کہ نیکی کرو بلکہ وَافْعَلُوا الخَيْرَ کے یہ معنی ہیں کہ تم سب سے اچھے اعمال بجالا وَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔فلاح کے معنے عربی زبان میں اپنی مراد کو پالینے کے ہوتے ہیں۔س لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ کے یہ معنے ہیں کہ اگر تم سب سے اچھی نیکیاں بجالا ؤ گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہاری تمام نیک مرادیں پوری ہو جائیں گی اور اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ دنیا میں اپنے وجود کو قائم کر دے گا۔مومن کی سب سے بڑی مُراد یہی ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی بادشاہت دنیا میں قائم ہو جائے۔حضرت مسیح علیہ السلام نے بھی یہی کہا تھا کہ اے خدا! جس طرح تیری بادشاہت آسمان پر ہے اُسی کی طرح زمین پر بھی آ جائے۔10- در حقیقت مومن کی سب سے بڑی خواہش یہی ہوتی ہے کہ دنیا میں کی اللہ تعالیٰ ہر ایک کو نظر آنے لگ جائے۔وہ یہ نہیں چاہتا کہ صرف مجھے خدا نظر آ جائے بلکہ مومن یہ چاہتا ہے ہے کہ ہر ایک کو خدا نظر آ جائے اور یہی اس کی مراد ہوتی ہے۔جب وہ نیکیوں میں ترقی کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کی اس خواہش کو بھی پورا کر دیتا ہے اور اس کے ذریعہ دنیا میں اپنا وجود ظاہر کرنا شروع کر دیتا ہے۔جیسے موجودہ زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ سے ہم نے خدا تعالیٰ کو دیکھا۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام دنیا میں نہ آتے تو خدا تعالیٰ کا وجود ہمارے لیے بالکل مخفی ہوتا۔عرش پر بیٹھا ہوا وجود کس کو نظر آتا ہے؟ مگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ذریعہ خدا ہمارے۔زمین پر آ گیا اور ہم نے اپنی آنکھوں سے اُس کے وجود کو دیکھ لیا اور جب تک احمدی احمدیت پر سچے طور پر قائم رہیں گے خدا تعالیٰ اپنے وجود کو ہمیشہ ان کے ذریعہ ظاہر کرتا رہے گا۔(الفضل 26 دسمبر 1958ء) مجھے تعجب ہوا کرتا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت موسی سے بڑے تھے مگر حضرت موسی علیہ السلام کی جماعت کو خدا تعالیٰ نے آج تک بادشاہت دی ہوئی ہے اور نظام اور اتحا دان میں پایا جاتا ہے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جماعت میں آپ کی وفات کے چند سال بعد ہی تفرقہ پیدا ہو گیا۔میں نے اس پر غور کیا کہ آخر اس کی کیا وجہ ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بہر حال حضرت موسی علیہ السلام سے بڑے تھے۔چاہیے تھا کہ آپ کی روحانی زندگی لمبی ہوتی اور