خطبات محمود (جلد 39) — Page 217
$ 1958 217 خطبات محمود جلد نمبر 39 خوش خوش واپس چلے گئے اور انہوں نے اپنے مولوی سے جا کر کہا کہ ہم تو اس سے تو بہ کروا آئے ہیں۔اُس نے کہا کس طرح؟ وہ کہنے لگے اس نے سب کے سامنے کہہ دیا ہے کہ میں اپنے سارے گناہوں سے تو بہ کرتا ہوں۔وہ کہنے لگا اس قسم کی تو بہ تو وہ تم سے بھی زیادہ کرتے ہیں۔اگر اس نے کی واقع میں احمدیت سے توبہ کر لی ہے تو پھر اسے مسجد میں لاؤ اور میرے پیچھے نماز پڑھاؤ۔چنانچہ وہ پھر اُس کے پاس گئے۔وہ انہیں دیکھ کر کہنے لگا کہ اب پھر تم کیوں آگئے ہو؟ انہوں نے کہا ہم اس لیے آئے ہیں کہ آپ ہمارے ساتھ مسجد میں چل کر نماز پڑھیں تا کہ ہمیں یقین ہو کہ آپ نے احمدیت سے توبہ کر لی ہے۔وہ کہنے لگا میں نے تو اس لیے تو بہ کی تھی کہ مرزا صاحب کہتے تھے نمازیں پڑھو، روزے رکھو، زکوۃ دو، حج کرو، جھوٹ نہ بولو، شراب نہ پیو، جوانہ کھیلو، کنچنیاں نہ نچواؤ۔اب تم نے جب ی تو بہ کروائی تو میں خوش ہو گیا کہ چلونمازیں بھی چھوٹیں، روزے بھی گئے ، زکوۃ بھی معاف ہوئی ، حج بھی کی گیا، اب دن رات شرا میں پئیں گے، جو اکھیلیں گے، کنچنوں کے ناچ دیکھیں گے مگر تم تو پھر نمازیں پڑھانے کے لیے آگئے ہو۔اگر نمازیں ہی پڑھانی تھیں تو یہ نمازیں تو مرزا صاحب بھی پڑھایا کرتے تھے۔پھر تو بہ کرنے کا فائدہ کیا ہوا۔وہ شرمندہ ہو کر اپنے مولوی کے پاس آئے اور انہوں نے یہ سارانی واقعہ اُسے سنایا۔وہ کہنے لگا میں نے تم سے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ اُس نے ضرور کوئی چالا کی کی ہے ورنہ اگر اُس نے تو بہ کی ہوتی تو یہاں آ کر ہمارے پیچھے نماز کیوں نہ پڑھتا۔اُس شخص کے بیٹے کے دل میں ایمان زیادہ تھا۔اُسے جب اپنے باپ کا یہ واقعہ معلوم ہوا تو وہ بہت ناراض ہوا اور اُس نے اپنے باپ کو کہا کہ تو نے اتنی کمزوری بھی کیوں دکھائی ؟ کئی بیٹے مخلص ہوتے ہیں اور ماں باپ کمزور ہوتے ہیں اور کئی ماں باپ مخلص ہوتے ہیں اور بیٹے کمزور ہوتے ہیں۔لیکن بہر حال اصل خوبی یہی ہے کہ قوم کو ہزاروں بلکہ لاکھوں سالوں تک تو کل اور ایمان کی زندگی نصیب ہو اور اُس کے افراد خدا تعالیٰ کے دامن کو ایسی مضبوطی سے پکڑے رکھیں کہ ایک لمحہ کے لیے بھی اُس سے جُدا ہونا انہیں گوارا نہ ہو اور جماعت میں کبھی ایسے لوگ پیدا نہ ہوں جو عبداللہ بن سبا کی طرح فتنہ برپا کرنے والے ہوں یا یزید کی طرح اسلام کو نقصان پہنچانے والے ہوں۔یہ لوگ اس لیے پیدا ہوئے کہ مسلمانوں کے ایک طبقہ کے اندر نہ خلافت پر سچا ایمان باقی رہا اور نہ اس کے مطابق انہوں نے قربانیاں کیں۔اگر وہ لاکھوں سال تک ایمان اور عمل صالح پر قائم