خطبات محمود (جلد 39) — Page 167
$1958 167 خطبات محمود جلد نمبر 39 میرے ساتھ مل سکتا ہے تو وہ ایک کم عقل سینٹ ہیں اور اگر وہ سمجھتے تھے کہ میں لوگوں کو اس ترکیب سے بیدار کرنے میں کامیاب ہو جاؤں گا تو وہ ایک چالباز پالیٹیشن ہیں۔میں نے کہا اب مجھے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں آپ نے خود ہی ان کے متعلق ایک فیصلہ کر لیا ہے۔تو اصل بات یہ ہے کہ انگریز کا معاملہ بالکل اور رنگ کا تھا اور انڈیا کا معاملہ بالکل اور ہے۔پس ان دونوں کا آپس میں کوئی مقابلہ ہی نہیں کیا جاسکتا۔میں نے جو کہا تھا کہ اس معاملہ میں گورنمنٹ پاکستان کی بھی غلطی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ بیشک یہ اُس کا حق ہے کہ وہ جتھوں کو رو کے لیکن اس کا یہ بھی فرض ہے کہ وہ لوگوں کو تسلی دلانے کے لیے بتائے کہ کشمیر کے معاملہ کو ایک معقول عرصہ میں حل کرنے کا اُس کے پاس کیا ذریعہ ہے تا کہ لوگوں کو تسلی ہو جائے اور وہ جوش میں دیوانگی کی کوئی حرکت نہ کریں۔شیخ عبد اللہ کئی سال سے قید ہیں اور سارا جی پاکستان کشمیر کی آزادی کے لیے شور مچا رہا ہے مگر گورنمنٹ اس معاملہ میں عملاً خاموش ہے۔وہ کہتی تو ی رہتی ہے کہ ہم کشمیر کو آزاد کرائیں گے لیکن بتائی نہیں کہ اس کے پاس کونسی ترکیب ہے۔صرف یہ کہتی ہے کہ ہم یو۔این۔او میں فیصلہ کرائیں گے حالانکہ سارا پاکستان جانتا ہے کہ یو۔این۔او کے بڑے ممبر یعنی امریکہ اور انگلینڈ اور روس بھارت کے ساتھ ہیں پاکستان کے ساتھ نہیں اور وہ جتنا ہو گا اس معاملہ کولٹکانے کی کوشش کریں گے۔پس پاکستانی گورنمنٹ کو کوئی نہ کوئی معقول مؤقف اختیار کرنا چاہیے خالی پکڑنا نہیں کی چاہیے۔اس سے لوگوں کا جوش نہیں دے گا بلکہ وہ اور زیادہ دیوانے ہوتے چلے جائیں گئے“۔1 : المائدة : 3 2 : النساء : 47 الفضل 9 جولائی 1958 ء ) 3 : إِن يَكُنْ مِنْكُمْ عِشْرُونَ صُبِرُونَ يَغْلِبُوا مَا تَتَيْنِ (الانفال : 66) 4 : بزاز: پنڈت پریم ناتھ بزاز۔کشمیر کے راہنما اور اخبارنو لیں۔5 مسولینی (مسولینی بنی ٹو - Mussoilni Benito)1883ء تا1945 ء اطالوی آمر۔ایک لوہار کا بیٹا تھا۔سوشلسٹ کی تحریک میں نمایاں کردار ادا کیا۔1919ء میں اپنی جماعت بنائی اکتوبر 1922ء میں وزیر اعظم بنا جنگ عظیم دوم میں جرمن کی طرف سے شامل ہوا۔اتحادیوں نے سلی پر قبضہ کر لیا جس کے نتیجہ میں اس کی ساکھ ختم ہوگئی۔1943ء میں مستعفی ہونے پر مجبور ہوا۔بعد میں اس نے شمالی اٹلی میں متوازی حکومت بنالی اپریل 1945ء میں اس کو گرفتار کر کے گولی ماردی گئی۔اس کی لاش کو میلان میں لے جا کر سڑکوں پر گھسیٹا گیا۔