خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 149 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 149

149 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 عورت کھلے منہ پھرے اور مردوں سے اختلاط کرے۔ہاں! اگر وہ گھونگھٹ نکال لے اور آنکھ سے رستہ وغیرہ دیکھے تو یہ جائز ہے لیکن منہ سے کپڑا اٹھا دینا یا مکسڈ پارٹیوں میں جانا جبکہ ادھر بھی مرد بیٹھے ہوں اور اُدھر بھی مرد بیٹھے ہوں یہ ناجائز ہے۔اسی طرح عورت کا مردوں کو شعر گا گا کر سنانا بھی ناجائز ہے کیونکہ یہ ایک لغو فعل ہے۔غرض عورتوں کا مکسڈ مجالس میں جانا، مردوں کے سامنے اپنا منہ تنگا کر دینا اور اُن سے ہنس ہنس کر باتیں کرنا یہ سب ناجائز امور ہیں۔لیکن ضرورت کے موقع پر شریعت نے بعض امور میں انہیں آزادی بھی دی ہے بلکہ قرآن کریم نے إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا و کے الفاظ استعمال فرما کر بتا دیا ہے کہ جو حصہ مجبور ظاہر کرنا پڑے اُس میں عورت کے لیے کوئی گناہ نہیں۔اس اجازت میں وہ کی تمام مزدور عورتیں بھی شامل ہیں جنہیں کھیتوں اور میدانوں میں کام کرنا پڑتا ہے اور چونکہ اُن کے کام کی نوعیت ایسی ہوتی ہے کہ اُن کے لیے آنکھوں اور اُس کے ارد گرد کا حصہ کھلا رہنا ضروری ہوتا ہے ورنہ ان کے کام میں دقت پیدا ہوتی ہے اس لیے إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا کے ماتحت اُن کے لیے آنکھوں سے لے کر ناک تک کا حصہ کھلا رکھنا جائز ہوگا۔اور چونکہ انہیں بعض دفعہ پانی میں بھی کام کرنا پڑتا ہے اس لیے اُن کے لیے یہ بھی جائز ہوگا کہ وہ پاجامہ اُڑس لیں اور اُن کی پنڈلی تنگی ہو جائے۔بلکہ ہمارے علماء کا یہ فتویٰ ہے کہ اگر کوئی عورت حاملہ ہو اور کوئی اچھی دایہ میسر نہ آ سکے اور ڈاکٹر یہ کہے کہ اگر یہ کسی مرد ڈاکٹر سے اپنا بچہ نہیں بنوائے گی تو اس کی زندگی خطرہ میں ہے تو ایسی صورت میں اگر وہ کسی مرد سے بچہ نہیں جنوائے گی تو یہ گناہ ہوگا اور پردے کی کوئی پروانہیں کی جائے گی۔حالانکہ عام حالات میں منہ کے پردے سے ستر کا پردہ زیادہ ہے۔لیکن اس کے لیے اعضاء نہانی کو بھی مرد کے سامنے کر دینا ضروری ہوگا۔بلکہ اگر کوئی عورت مرد ڈاکٹر سے بچہ نہ جنوائے اور مرجائے تو خدا تعالیٰ کے حضور وہ ایسی ہی سمجھی جائے گی جیسے اُس نے خود کشی کی ہے۔غرض کوئی وقت ایسی نہیں جس کا ہماری شریعت نے علاج نہیں رکھا مگر باوجود اتنے بڑے انعام کے کہ خدا تعالیٰ نے لوگوں کی سہولت کے لیے ہر قسم کے احکام دے دیئے ہیں اگر کوئی شخص پر دہ کو چھوڑتا ہے تو اس کے معنے یہ ہیں کہ وہ قرآن کی ہتک کرتا ہے۔ایسے انسان سے ہمارا کیا تعلق ہوسکتا ہے۔وہ ہمارا دشمن ہے اور ہم اُس کے دشمن ہیں اور ہماری جماعت کے مردوں اور عورتوں کا فرض ہے کہ وہ ایسے احمدی مردوں اور ایسی احمدی عورتوں سے کوئی تعلق نہ رکھیں۔یہ کوئی فخر کی بات نہیں کہ فلاں عورت بڑے مالدار آدمی کی بیوی ہے۔تمہارا فخر اس میں ہے کہ تمہارے فرشتوں سے تعلقات