خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 146 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 146

146 $1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہو اور اُن سے دوستی اور محبت کے تعلقات رکھتے ہو۔تمہارا تو فرض ہے کہ تم ایسے آدمی کو سلام بھی نہ کرو۔تب بیشک سمجھا جائے گا کہ تم میں غیرت پائی جاتی ہے اور تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی اطاعت کروانا چاہتے ہو۔لیکن اگر تم ایسے شخص سے مصافحہ کرتے ہو، اُس کو سلام کرتے ہو اور اُس سے تعلقات رکھتے ہو تو تم بھی ویسے ہی مجرم ہو جیسے وہ ہیں۔پس آج میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ جو لوگ اپنی بیویوں کو بے پردہ باہر لے جاتے اور مکسڈ (MIXED) پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرتے ہیں اگر وہ احمدی ہیں تو تمہارا فرض ہے کہ تم اُن سے کوئی تعلق نہ رکھو، نہ اُن سے مصافحہ کرو، نہ انہیں سلام کرو، نہ اُن کی دعوتوں میں جاؤ اور نہ اُن کو بھی دعوت میں بلاؤ تا کہ انہیں محسوس ہو کہ ان کی قوم اس فعل کی وجہ سے انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔لیکن غیر احمدیوں کے متعلق ہمارا یہ قانون نہیں کیونکہ وہ ہماری جماعت میں شامل نہیں اور ہمارے فتوی کے پابند نہیں۔وہ چونکہ ہماری جماعت میں شامل نہیں اُن پر کی اُن کے مولویوں کا فتوی چلے گا اور خدا تعالیٰ کے سامنے ہم اُن کے ذمہ دار نہیں ہوں گے بلکہ وہ یا اُن کی کے مولوی ہوں گے۔لیکن اگر تم ایسے لوگوں سے تعلقات رکھتے ہو جو اپنے آپ کو احمدی کہتے ہیں اور پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احکام کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو صرف وہی نہیں بلکہ تم بھی پکڑے جاؤ گے۔خدا کہے گا کہ ان لوگوں کو تم نے اس گناہ پر دلیری اور جرات دلائی اور انہوں نے سمجھا کہ ساری قوم ہمارے اس فعل کو پسند کرتی ہے۔پس آئندہ ایسے احمدیوں سے نہ تم نے مصافحہ کرنا ہے، نہ انہیں سلام کرتا ہے، نہ ان کی دعوتوں میں جانا ہے، نہ ان کو کبھی دعوت میں بلانا ہے، نہ ان کے پیچھے نماز پڑھنا ہے اور نہ ان کو جماعت میں کوئی عہدہ دینا ہے بلکہ اگر ہو سکے تو اُن کا جنازہ بھی نہیں پڑھنا۔اسی طرح ہماری جماعت کی عورتوں کو چاہیے کہ ان کی عورتوں سے کسی قسم کے تعلقات نہ رکھیں۔تمہیں اس سے کیا کہ کوئی کتنا مالدار ہے۔تمہیں کسی مال دار کی ضرورت نہیں تمہیں خدا کی ضرورت ہے۔اگر تم اللہ تعالیٰ کے لیے ان مال داروں سے قطع تعلق کر لو گے تو بیشک تمہارے گھر میں وہ مال دار نہیں آئے گا لیکن تمہارے گھر میں خدا آئے گا۔اب بتاؤ کہ تمہارے گھر میں کسی مالدار آدمی کا آنا عزت کا موجب ہے یا خدا تعالیٰ کا آنا عزت کا موجب ہے؟ بڑے سے بڑا مالدار بھی ہو تو خدا تعالیٰ کے مقابلہ میں اُس کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔پس میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ آئندہ ایسے لوگوں سے کوئی تعلق نہ رکھا جائے۔