خطبات محمود (جلد 39) — Page 109
$1958 109 خطبات محمود جلد نمبر 39 مسلمان مارے جائیں گے مگر حضرت خالد نے کہا اگر ایسا نہ کیا گیا تو ہمارا دشمن پر رعب نہیں پڑے گا۔چنانچہ حضرت ابو عبیدہ مان گئے اور جو ساٹھ آدمی منتخب کیے گئے اُن میں حضرت عکرمہ بھی شامل تھے۔اس جنگ میں رومی لشکر کا کمانڈر انچیف ایک ایسا شخص تھا جس سے بادشاہ نے وعدہ کیا تھا کہ اگر وہ مسلمانوں کے مقابلہ میں جنگ جیت گیا تو وہ اُسے اپنی آدھی سلطنت دے دے گا اور اپنی لڑکی اُس کی کے نکاح میں دے دے گا۔چنانچہ ساٹھ آدمی حملہ کے لیے چلے گئے۔ان میں حضرت فضل بن عباس وان بھی شامل تھے۔ان لوگوں نے رومی لشکر پر اس تیزی سے حملہ کیا کہ گو دشمن ساٹھ ہزار کی تعداد میں تھا اور یہ صرف ساٹھ افراد تھے مگر دشمن گھبرا گیا اور یہ نہ سمجھ سکا کہ یہ ساٹھ آدمی انسان ہیں یا جن ہیں۔یہ ای لوگ لشکر کے عین وسط میں گھس گئے اور اُس جگہ پر پہنچ گئے جہاں کمانڈر انچیف تھا اور وہاں جا کر اسے تی ٹانگ سے پکڑ کر سواری سے نیچے گھسیٹ لیا اور اُسے مارڈالا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سارا لشکر بھاگ گیا 17 مگر کمانڈر انچیف پر حملہ کرنا آسان نہیں تھا۔یہ سارے لوگ یا تو زخمی ہو گئے یا وہیں ٹکڑے ٹکڑے ہو گئے۔چند زخمی صحابہ ایک ایک جگہ پڑے ہوئے تھے کہ ایک شخص پانی لے کر وہاں پہنچا۔حضرت عکرمہ کی اسلام لانے سے پہلے بھی بڑی شان تھی اور اسلام لانے کے بعد بھی بڑی شان تھی۔اس لیے وہ پہلے ان کے پاس گیا اور کہنے لگا عکرمہ ! آپ شدید پیاسے معلوم ہوتے ہیں تھوڑا سا پانی پی کی لیں۔حضرت عکرمہ نے اپنے دائیں طرف دیکھا تو حضرت فضل بن عباس بھی زخمی پڑے ہوئے تھے۔انہوں نے اس شخص کو کہا مجھے نظر آ رہا ہے کہ اس وقت میرا ایک اور ساتھی پانی کا سخت محتاج ہے۔وہ مجھ سے پہلے اسلام لایا ہے اس لیے مجھ سے زیادہ مستحق ہے۔تمہیں خدا کی قسم ! پہلے انہیں پانی پلاؤ پھر میرے پاس آنا۔چنانچہ وہ شخص اُن کے پاس گیا اور اُن سے پانی پینے کے لیے کہا لیکن انہوں نے بھی پاس والے زخمی صحابی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ پہلے انہیں پانی پلاؤ پھر میرے پاس آؤ۔وہ سات صحابہ تھے۔پانی پلانے والا شخص پانی لے کر ساتوں کے پاس باری باری گیا لیکن ان میں سے ہر ایک نے دوسرے کی طرف اشارہ کیا۔جب آخری صحابی کے پاس پہنچا تو وہ فوت ہو چکے تھے اور جب وہ واپس عکرمہ کے پاس آیا تو وہ بھی دم توڑ چکے تھے۔18 تو دیکھو اتنے شدید دشمن کو بھی خدا تعالیٰ نے کس قدر مخلص بنا دیا تھا۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے اندر ایسا تغیر پیدا کر لیں اور ایسے اعمال بجا لائیں جن سے لوگوں