خطبات محمود (جلد 39) — Page 108
108 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 ا کر انہوں نے اپنی بیوی سے کہا مجھے تیری باتوں پر تب یقین آئے گا جب وہ باتیں جو تو نے کہیں ہیں محمد ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کے منہ سے بھی کہلوا دے۔مجھے یقین ہے کہ وہ راستباز انسان ہیں کی جھوٹ نہیں بولتے۔چنانچہ ان کی بیوی انہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گئی۔عکرمہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ میری بیوی کہتی ہے کہ آپ نے مجھے معاف کر دیا ہے اب آپ مجھے کچھ نہیں کہیں گے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہ ٹھیک کہتی ہے۔انہوں نے کہا میری بیوی نے مجھے یہ بات بھی بتلائی ہے کہ آپ مجھے مسلمان ہونے پر مجبور نہیں کریں گے کیا یہ بات بھی سچ ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ٹھیک ہے۔عکرمہ حیران ہوئے اور انہوں نے سمجھ لیا کہ جو شخص اتنے شدید دشمنوں کو بھی معاف کر سکتا ہے وہ جھوٹا نہیں ہوسکتا۔چنانچہ انہوں نے یہ بات ی سنتے ہی فوراً کہا اَشْهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا اللهُ وَاَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبُدُهُ رَسُولُهُ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ ایک ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) آپ اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عکرمہ ! یہ کیا بات ہے؟ عکرمہ نے کہا یا رسول اللہ! میں آج تک آپ کا مخالف تھا اور مجھے یقین نہیں تھا کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں لیکن آج آپ نے جو سلوک مجھ سے کیا ہے وہ خدا تعالیٰ کے رسولوں کے سوا اور کوئی نہیں کرتی سکتا۔16 میرے باپ اور دوسرے رشتہ داروں نے آپ کو تنگ کیا، آپ کو مارا اور کئی مسلمانوں کو قتل کیا اور پھر یہیں تک بس نہیں کی بلکہ ہماری بعض عورتوں نے مسلمان شہیدوں کے کلیجے نکلوا کر کچے چبائے ، آپ کی بیٹی کو مدینہ جاتے ہوئے اونٹ سے گرایا جس کی وجہ سے اُن کا حمل ساقط ہو گیا اور وہ ی خود بھی اسی صدمہ کی وجہ سے فوت ہو گئیں۔ان سب باتوں کے باوجود جب آپ کو غلبہ ملا تو آپ نے ہم سب کو معاف کر دیا۔یہ کام خدا تعالیٰ کے رسولوں کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا۔آپ کا یہ سلوک دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور اسی لیے میں نے کلمہ پڑھا ہے۔پھر دیکھ لو حضرت عکرمہنگا وہ کلمہ پڑھنا کیسا سچا تھا۔ایک موقع پر جب حضرت عمرؓ کے زمانہ میں رومیوں سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی تو حضرت خالد نے کہا دشمن کی ہر اول فوج ساٹھ ہزار کی ہے۔میں چاہتا ہوں کہ صرف ساٹھ مسلمان میرے ساتھ جائیں اور وہ مسلمان ایسے ہوں جو جان دینے کے لیے تیار ہوں۔حضرت ابو عبیدہ نے انہیں سمجھایا کہ خالد ! یہ بہت بڑی قربانی ہے۔سارے چیدہ چیدہ