خطبات محمود (جلد 39) — Page 91
$1958 91 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہے۔یقیناً وہی سچا ہے اور میں بھی اُس کے ساتھ ہوں۔انہوں نے کوئی دلیل نہیں سنی ، کوئی مسائل نہیں سمجھے۔اس سے قبل وہ خدا تعالیٰ کی توحید کے دلائل بھی سنتے ہوں گے اور نبوت کے ثبوت بھی مگر ایک کی کان سے سُن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہوں گے۔وہ فرشتوں کا ذکر بھی سنتے ہوں گے اور قیامت کا بھی مگر کسی کی پروا اُن کو نہ تھی اور نہ اُن میں سے کوئی چیز اُن پر اثر انداز ہوتی تھی۔مگر جب اُن کو یہ خیال ہوا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تعلیم تو معلوم نہیں اچھی ہے یا بُری۔مگر وہ سنجیدگی سے اس پر قائم ہیں اور دنیا کی مخالفت کی اُن کو کوئی پروانہیں تو حمزہ کی شرافت نے جوش مارا اور انہوں نے کہا کہ یہ شخص اصول کے لیے قربانی کر رہا ہے اور بے ضرر ہونے کے باوجود دنیا کی مخالفت کا شکار بنا ہوا ہے۔اس کے پاس ضرور کوئی ایسی چیز ہے جس سے دنیا ڈرتی ہے اور وہ ہدایت کی طرف آ گئے۔اسی طرح ہزاروں لاکھوں انسان ایسے ہوں گے جن کی شرافت طبعی اُن کو اسلام کی طرف لے آئی۔انہوں نے دیکھا کہ علماء جب دلائل سے اس کا مقابلہ نہیں کر سکتے تو پھر دُکھ دینے لگتے ہیں اور اس کے مقابلہ میں آپ کی قربانی کو دیکھ کر وہ اسلام کی صداقت کے قائل ہو گئے۔تو اللہ تعالیٰ نے انسان کی فطرت میں یہ بات رکھی ہے کہ سنجیدگی سے وہ ضرور متاثر ہوتا ہے۔اور جب کوئی شخص سنجیدگی سے کسی بات پر قائم ہو جائے تو لوگ ضرور اُس کی طرف توجہ کرتے ہیں۔لیکن اگر کہا کچھ جائے اور کیا کچھ جائے تو پھر کوئی پروا نہیں کرتا۔پچھلے دنوں بعض طالب علم مجھے ملے اور انہوں نے کہا کہ لوگ ہماری باتوں کو سنتے نہیں۔یا کہا کہ تم پہلے اپنی شکلوں کو تو دیکھو! کیا یہ ویسی ہی ہیں جیسی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قائم کرنا چاہتے تھے؟ اگر نہیں تو پھر لوگ تمہاری منہ کی باتوں کو کس طرح توجہ سے سن سکتے ہیں۔جسے تم سنانے لگو گے وہ کہے گا کہ عمل نہ اس کا ہے نہ میرا۔پھر باتوں کا کیا فائدہ۔یا درکھو! جب انسان کے دل میں جوش ہو تو اُس کے ساتھ اُس کے اندر ایک تغیر بھی ہوتا ہے اور یہی تغیر دراصل لوگوں پر اثر ڈالتا ہے۔کئی لوگ مجھ سے کہتے ہیں کہ لوگوں پر سکھوں کا بہت رُعب ہے۔میں ہمیشہ اُن کو یہی کہتا ہوں کہ انہوں نے اپنے ظاہری عمل سے اپنا رُعب قائم کیا ہے۔وہ اپنی روایات پر اس شدت کے ساتھ عمل کرتے ہیں کہ مسلمانوں کو شرم آ جانی چاہیے۔تم گرمی کے موسم میں تھوڑے عرصہ کے لیے بھی بال نہیں رکھ سکتے مگر وہ رکھتے ہیں اور شوق کے ساتھ رکھتے ہیں۔لوگ ہمیشہ