خطبات محمود (جلد 39) — Page 53
$1958 53 خطبات محمود جلد نمبر 39 ٹیپو سلطان نے بڑے جوش میں کہا کہ گیدڑ کی سو سال کی زندگی سے شیر کی دو گھنٹے کی زندگی اچھی ہوتی ہے۔5 میں گیدڑ کی سی زندگی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔مجھے گیدڑ کی سو سال کی زندگی کی ضرورت نہیں مجھے شیر کی سی دو گھنٹے کی زندگی زیادہ پیاری ہے۔اگر میں دو گھنٹے تک یہاں لڑ سکتا ہوں اور شیر کی مثال قائم کر سکتا ہوں تو یہ دو گھنٹے کی زندگی مجھے زیادہ پیاری ہے اور سو سال کی زندگی مجھے پیاری نہیں۔میرے دل میں بھی خواہش ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے جتنی زندگی دے وہ کام والی زندگی دے جس میں میں اسلام کی خدمت کروں اور اس کی ترقی اپنی آنکھوں سے دیکھوں۔خالی سوچنے والا دماغ کافی نہیں۔فعال ہاتھ ہوں ، فقال ٹانگیں ہوں جن سے انسان ہر موقع پر عملاً خدمت دین کر سکے یہ اصل زندگی ہے۔خالی دماغ کا چلتے رہنا اصل زندگی نہیں کیونکہ دماغ تو بعض اوقات ایسی بیماریوں میں بھی جن میں انسان بیہوش ہوتا ہے کام کرتا رہتا ہے۔چنانچہ فالج کے حملہ کے بعد میری بیوی نے تی مجھے بتایا کہ جب آپ پر فالج کا حملہ ہوا ہے تو آپ جلدی جلدی بعض ہومیو پیتھک دواؤں کے نام لیتے جاتے تھے جو فالج کے لیے مفید ہوتی ہیں اور کہتے تھے کہ مجھے فلاں دوائی پلاؤ فلاں دوائی پلاؤ۔اب دیکھو اس وقت اگر چہ میں بیہوش تھا مگر بیہوشی میں بھی میرا دماغ کام کر رہا تھا اور میں اُن دواؤں کے نام لے رہا تھا جن کے متعلق ہومیو پیتھک والوں کا خیال ہے کہ ان سے فالج کو فائدہ ہوتا ہے۔تو خالی دماغ کا کام کرنا کافی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ایسی زندگی کی بھی ضرورت ہے جس میں انسان کو کی فقال طاقت حاصل ہو۔اُس کے ہاتھ بھی کام کریں، پاؤں بھی کام کریں اور سارا جسم خدمت کا بوجھ اُٹھا سکے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کا وقت جب قریب آیا تو آپ کا دماغ کام کر رہا تھا لیکن جسم کمزور ہو چکا تھا۔آپ نے حضرت ابو بکر کو مسجد میں پیغام بھیجا کہ نماز پڑھا دیں۔پہلے آپ بیماری میں بھی باہر آتے رہتے تھے۔اس لیے جب صحابہ نے حضرت ابو بکر کو نماز پڑھانے کے لیے آگے بڑھتا دیکھا تو انہوں نے خیال کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ تکلیف ہے۔ایک دن آپ آہستہ آہستہ اس کھڑ کی تک آئے جو مسجد میں کھلتی تھی تا کہ آپ اپنی آنکھوں سے مسلمانوں کو دیکھ سکیں۔جب آپ نے پردہ اُٹھا کر مسجد میں جھانکا تو صحابہ نے خیال کیا کہ شاید آپ نماز پڑھانے کے لیے تشریف لا رہے ہیں مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھڑکی کا پردہ گرا دیا اور چار پائی پر جا کر