خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 360

$1959 360 خطبات محمود جلد نمبر 39 دین کی خدمت کے لیے بنائی جاتی ہیں ان میں تو بہت زیادہ قواعد کا احترام ہونا چاہیے اور ان میں شمولیت کو بہت زیادہ اہم سمجھنا چاہیے۔در حقیقت اس شوری کی ممبری دنیا کی کئی بادشاہتوں سے بھی بڑی ہے اور جس کو شوری کی ممبری نصیب ہو جاتی ہے وہ دنیا کے کئی بادشاہوں سے بھی زیادہ عزت حاصل کر لیتا ہے کیونکہ شوری کے ممبروں کو یہ بھی اختیار دیا گیا ہے کہ وہ آئندہ خلیفہ کا انتخاب کریں۔گو اس کی نمائندگی کے قواعد مختلف ہیں۔دیکھ لو حضرت مسیح ناصرتی اگر چہ مسیح محمدی سے چھوٹے تھے مگر عیسائیوں میں پوپ کا اتنا احترام پایا جاتا ہے کہ نپولین جیسا بادشاہ جس نے دنیا کا ایک بڑا حصہ فتح کر لیا تھا اور جس نے روس جیسے ملک کے اکثر حصہ کو بھی فتح کر لیا تھا ، جس سے بعد میں ہٹلر ہار گیا، ایک دفعہ اُس کو لوگوں نے مشورہ دیا کہ پوپ کو بلواؤ۔جب پوپ آیا تو قاعدہ کے لحاظ سے چاہیے تھا کہ پوپ بادشاہ سے مقدم ہوتا مگر نپولین کو اپنی عزت بڑھانے کا بڑا خیال رہتا تھا اُس نے ہدایت دے دی کہ موٹر عین درمیان میں کھڑا کر دینا۔جب موٹر آیا تو نپولین نے چاہا کہ اس میں پہلے بیٹھ جائے لیکن پوپ نے بھی ہوشیاری کی اور وہ دوڑ کر دوسری طرف چلا گیا اور جب نپولین نے بیٹھنے کے لیے دروازہ کھولا تو دوسری طرف سے پوپ اس میں داخل ہو رہا تھا۔اس طرح نپولین پوپ سے پہلے تو نہ بیٹھ سکا مگر اُس نے اسی کو غنیمت سمجھا کہ وہ کم از کم پوپ کے برابر تو رہا ہے۔غرض شورای کی ممبری بادشاہوں سے ہی نہیں بلکہ شہنشاہوں کی عزت اور مرتبہ سے بھی بڑھ کر ہے اس لیے دوستوں کو یہ فخر ضائع نہیں کرنا چاہیے۔اور چاہے جان چلی جائے انہیں اجلاس میں حاضر ہونے اور اس سے فائدہ حاصل کرنے میں کو تا ہی نہیں کرنی چاہیے۔اللہ تعالیٰ ہماری جماعت کو اس عظیم الشان نعمت سے جو اُس نے تیرہ سو سال کے بعد دوبارہ مسلمانوں کو عطا فرمائی ہے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ خدا تعالیٰ کے فضلوں کا زیادہ سے زیادہ شکر یہ ادا کریں تا کہ وہ دنیا میں بھی عزت حاصل کریں اور آخرت میں بھی انہیں عزت حاصل ہو۔( الفضل 10 مئی 1959ء) 1: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلوةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلى ذِكْرِ اللهِ وَذَرُوا الْبَيْعَ ذَلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ ) ( الجمعة : 10)