خطبات محمود (جلد 39) — Page 346
346 $ 1959 خطبات محمود جلد نمبر 39 والا پلڑا بوجھل ہوگا اور ان کی برائیوں کا پلڑا کمزور ثابت ہو کر اوپر اٹھ جائے گا۔اب دیکھو! یہ ہماری تبلیغ کالج ہی اثر ہے۔پاکستان کے وزراء اور سفراء باہر جاتے ہیں تو وہ بھی واپس آکر ہمارے مبلغین کے کام کی تعریف کرتے ہیں۔پچھلے دنوں ایک ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس ربوہ آئے تو انہوں نے بتایا کہ وہ ایک دفعہ ٹرینیڈاڈ گئے تھے۔انہوں نے دیکھا کہ احمدیت کے مبلغ کی وجہ سے وہاں پاکستان کی لوگوں میں زیادہ شہرت ہے۔اسی طرح پرسوں ایک خط آیا کہ کسی عیسائی نے اسلام کے خلاف اعتراضات کیے تو ہمارے مبلغ شکر الہی صاحب نے اُس کا جواب شائع کیا۔اُسے پڑھ کر شاہ فاروق کی والدہ ملکہ نازلی نے کہا کہ اشاعت اسلام کا کام صرف احمدی مبلغین ہی کر رہے ہیں ان کے سوا اور کوئی یہ کام نہیں کر رہا۔ان لوگوں نے ہی اس ملک میں اسلام کی عزت کو قائم رکھا ہوا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہمارے مبلغین کے ذریعہ غیر ممالک میں اسلام کو عظمت حاصل ہوتی ہے۔غیر ملکوں مثلاً مشرقی افریقہ، مغربی افریقہ، جرمنی ، سیکنڈے نیویا، سوئٹزر لینڈ، ہالینڈ، امریکہ اور انگلینڈ میں ہمارے مبلغ اسلام کی اشاعت کرتے ہیں اور جب ان کے ذریعہ سے غیر ممالک میں اسلام کی عزت بڑھتی ہے تو ان کے کام پر جہاں احمدی فخر کر سکتے ہیں وہاں غیر احمدی بھی فخر کر سکتے ہیں۔پچھلے دنوں انڈونیشیا سے ایک چینی لڑکا آیا تھا (انڈونیشیا میں چینی لوگ بھی آباد ہیں)۔اس لڑکے نے بتایا کہ مجھے احمدی مبلغوں کے ذریعہ ہی تبلیغ ہوئی تھی اور اسی کے نتیجہ میں میں مسلمان ہوا۔وہ لڑکا بڑا اخلص تھا۔تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیرونی ممالک میں ہر جگہ اسلام احمدی مبلغین کے ذریعہ سے تقویت پا رہا ہے کی اور ان کے لیے چندہ کے وعدے بھیجوانا چاہیں وہ فوری طور پر ادا کیے جائیں۔یہ ایک بڑی دینی خدمت ہے اور خدا تعالیٰ کی خوشنودی کا موجب ہے۔اگر گورنمنٹ کی مالی حالت اچھی ہو گئی اور اس کے پاس ایکسچینج جمع ہو گیا تو وہ اس نے بہر حال تقسیم کرنا ہے۔اگر انہوں نے کسی وقت ایکھینچ دے دیا لیکن تحریک جدید روپیہ باہر نہ بھیج سکی تو گورنمنٹ کے نزدیک بھی محکمہ کی سبکی ہوگی اور مبلغ بھی الگ تکلیف اٹھائیں گے۔وقف جدید کے چندہ میں بھی ابھی دس بارہ ہزار روپیہ کی کمی ہے۔دوستوں کو اس کی طرف بھی توجہ کرنی چاہیے۔پچھلے سال انہوں نے نسبتاً بہت اچھا کام کیا تھا۔اگر اس سال بھی انہیں رو پیل