خطبات محمود (جلد 39) — Page 342
1959ء 342 خطبات محمود جلد نمبر 39 اُن سے وہ فائدہ اٹھائیں تو ان کی اپنی حالت بھی درست ہو جائے گی اور گورنمنٹ کی اقتصادی بدحالی بھی دور ہو جائے گی ۔ اگر قرآنی اندازہ کے مطابق فصل پیدا ہونے لگ جائے تو سات ایکٹر والا زمیندار بھی اتنا اچھا گزارہ کر سکتا ہے جتنا ایک ڈپٹی کمشنر کرتا ہے۔ لیکن سوال تو یہ ہے کہ عملاً ایسا ہو جائے۔ عملاً جب تک ایسا نہیں ہو تا سات ایکڑ کا مالک چپڑاسی جیسا گزارہ بھی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ جن ملکوں میں زراعت کی طرف توجہ نہیں کی جاتی وہاں چپڑاسی کی حیثیت ایک زمیندار سے زیادہ ہے۔ ایک دفعہ مغربی افریقہ کے ایک احمدی نے جو چپڑاسی کا کام کرتا تھا مجھے لکھا کہ میں ریاست کی نوابی کے لیے کھڑا ہو رہا ہوں میرے لیے دُعا کریں۔ میں نے لکھا تُم تو چپڑاسی ہو اور نوابی کے لیے کھڑے ہو رہے ہو؟ اُس نے لکھا کہ یوں تو میرا باپ یہاں کا نواب تھا لیکن چپڑاسی کو یہاں اتنی تنخواہ مل جاتی ہے کہ زمیندارہ میں اتنی آمد نہیں ہوتی لیکن پھر بھی میری خواہش یہ ہے کہ میں نواب بن جاؤں۔ نواب بن جانے پر مجھے خود زمیندارہ نہیں کرنا پڑے گا۔ ہاں ! ٹیکس وغیرہ کی آمدنی ہوگی۔ یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اب تک دو احمدی مغربی افریقہ میں نواب ہو چکے ہیں۔ اب ایک بادشاہ کی جگہ خالی ہوئی ہے اور ایک لڑکے کا خط آیا ہے کہ میرے لیے دعا کریں میں بادشاہ ہو جاؤں ۔ ہمیں اس کے بادشاہ ہونے سے اتنی دلچسپی نہیں جتنی دلچسپی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس الہام سے ہے کہ بادشاہ تیرے کپڑوں سے برکت ڈھونڈیں گے 4 ہم چاہتے ہیں کہ بعض جگہوں کے بادشاہ ہماری زندگی میں ہی احمدی ہو جائیں اور وہ برکت ڈھونڈ نے لگ جائیں تا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کا یہ الہام ہم اپنی آنکھوں سے پورا ہوتے دیکھیں ۔ بہر حال میں جماعت کو نصیحت کرتا ہوں کہ فوراً زراعت کے سیکرٹری مقرر کرے جو مرکز کو اس کے بعد ایک خط امریکہ سے ایک نومسلمہ کا آیا جس میں اس نے ذکر کیا ہے کہ شاہ فاروق کی والدہ ملکہ نازلی نے میرے خاوند کا جو وہاں مبلغ ہے ایک عیسائی رسالہ کی تردید میں ایک مضمون پڑھا تو انہوں نے کہا کہ اسلام کی خدمت احمدیوں کے سوا اور کوئی نہیں کر رہا۔ جب ایک ملکہ کو اس طرف توجہ پیدا ہوئی ہے تو بادشاہ کو بھی ہوسکتی ہے۔