خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 333 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 333

$1959 333 خطبات محمود جلد نمبر 39 دور ہو جائے۔جو میں نے ابھی جو آیات پڑھی ہیں ان میں اللہ تعالیٰ ہمیں ایک بہت بڑا اخلاقی سبق دیتا کی ہے۔دنیا میں کئی قسم کی مخالفتیں ہوتی ہیں۔بعض مخالفتیں دنیا وی ہوتی ہیں اور بعض دینی ہوتی ہیں۔دنیوی مخالفتوں کو تو انسان معاف بھی کر سکتا ہے لیکن دینی مخالفتوں میں بعض اوقات ضد آ جاتی ہے اور لوگ کہتے ہیں کہ ہم انہیں کیسے معاف کریں۔مجھے یاد ہے کہ جب حضرت خلیفہ اول کی خلافت کا جھگڑا شروع ہوا اور میں ابھی خلیفہ نہیں ہوا کی تھا تو خواجہ کمال الدین صاحب نے شیخ یعقوب علی صاحب کو میرے پاس بھیجا کہ آپس میں صلح کر لی جائے۔شیخ صاحب ! جذباتی قسم کے آدمی تھے، جلدی متاثر ہو گئے اور آ کر کہنے لگے میں بڑی خوشخبری لایا ہوں۔خواجہ کمال الدین صاحب کہتے ہیں صلح کر لی جائے۔میں نے کہا شیخ صاحب اُن سے کی پوچھنا تھا کہ میرا اُن سے جھگڑا کیا ہے؟ میری کوئی جائیداد تو انہوں نے نہیں دبائی ہوئی۔اگر جائیداد کا کی سوال ہوتو میں ابھی ساری جائیداد چھوڑتا ہوں لیکن اگر دین کا سوال ہے تو میرا اُسے چھوڑنے کا کیا حق ہے۔یہ صرف خدا تعالیٰ کا حق ہے اور وہی اسے چھوڑ سکتا ہے میں نہیں چھوڑ سکتا۔یہ بات اُن کی سمجھ میں آگئی اور انہوں نے خواجہ صاحب کو بتا دیا۔تو بعض دفعہ دنیا میں قوموں کے ساتھ دنیوی جھگڑے ہوتے ہیں اور بعض دفعہ دینی جھگڑے ہوتے ہیں۔دینی جھگڑوں میں انسان بعض دفعہ ضد کر کے اڑ جاتا ہے کہ میں صلح نہیں کرتا۔جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ وہ صلح نہ کرے اور اپنے عقیدہ پر قائم رہے تو یہ بڑی اعلیٰ درجہ کی بات ہے لیکن بعض دفعہ لوگ دینی باتوں کی وجہ سے غصہ میں آکر لڑ پڑتے ہیں۔چنانچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک دفعہ کسی یہودی سے کوئی معاملہ کر رہے تھے کہ اس نے باتوں باتوں میں کہہ دیا میں موسی کی قسم کھا کر کہتا بعد میں ڈاکٹر اعجاز الحق صاحب نے ایک اور احمدی دوست کے ساتھ جو ایکسرے کے ایکسپرٹ ہیں معائنہ کیا اور فیصلہ کیا کہ یہاں مسوڑھے میں ایک دنبل 4 پیدا ہو گیا ہے۔چنانچہ چیر دے کر اس میں سے پیپ نکال دی گئی۔اس کے بعد گوزخم مندمل ہو چکا ہے اور دماغ میں جو ہتھوڑے لگتے تھے اس میں بھی کمی واقع ہو گئی ہے لیکن ابھی ہاتھ لگانے سے درد ہوتی ہے۔ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ کچھ دنوں کی تک آرام آجائے گا۔