خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 332

$1959 332 خطبات محمود جلد نمبر 39 شاید اُس دوست کو پتا نہیں کہ یہی تو مجھے بیماری ہے۔جس قسم کی بیماری کا حملہ مجھے ہوا تھا اُس کا خاصہ ہے کہ اس کے نتیجہ میں انسان ہر کام جلدی جلدی کرتا ہے۔چلتا ہے تو اُس میں بھی جلدی کرنے کی کوشش کرتا ہے جس کے نتیجہ میں بعض دفعہ دروازہ سے مڑنے لگتا ہے تو اسے ٹھوکر لگ جاتی ہے۔بعض ڈاکٹروں نے اس کا علاج یہ بتایا ہے کہ جیپ پر چڑھ کر ایسی سڑکوں پر سفر کیا جائے جو خراب ہوں اور ان اس سے خوب جھٹکے لگیں۔اس سے اس مرض کو آرام آ جائے گا۔لیکن تجربہ کے بعد معلوم ہوا کہ یہ علاج غلط ہے اور اس سے کوئی فائدہ نہ ہوا۔تو اصل میں اس بیماری کا یہی خاصہ ہے کہ اس میں ہر کام جلدی جلدی کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے۔دوسرے یہ بات بھی ہے کہ بیماری کی وجہ سے ڈر آتا ہے کہ کہیں میں بھول نہ جاؤں۔اس وجہ سے بھی جلدی کرنی پڑتی ہے۔میری بیماری کے متعلق ڈاکٹروں کا خیال تھا کہ شاید سردی کم ہو تو اس میں افاقہ ہو جائے۔جب جلسہ سالانہ کے موقع پر میری زبان پر چھالے پڑے تھے تو ڈاکٹروں کی یہ رائے تھی کہ اندرونی حصہ جسم میں کسی جگہ زہر پیدا ہوا ہے جس کی وجہ سے زبان پر چھالے پڑ گئے ہیں۔اس وقت تو پتا نہیں لگا لیکن بعد میں میں نے عزیزم ڈاکٹر اعجاز الحق کو اپنا دانت دکھانے کے لیے لاہور سے بلایا تو اُن کے معائنہ سے معلوم ہوا کہ دانت میں ایک پرانی مرض ہوا کرتی تھی کہ بجائے او پر سوراخ ہونے کے پہلو میں سوراخ ہو کر عصبہ کا سر باہر نکل آتا تھا۔انہوں نے کہا کہ اس دانت میں عصبہ کا وہی سر انگا ہو گیا ہے مگر کہا کہ اس دانت کو نکالنے کا فیصلہ ہم تبھی کر سکتے ہیں جب آپ لاہور آئیں اور وہاں دانت کا ایکسرے کرائیں۔انہوں نے کہا میں کچھ علاج تو کر دیتا ہوں مگر پورا علاج ابھی نہیں کیا جا سکتا۔اگر یکسرے میں بھی یہی نکلا کہ دانت کو نکالنا چاہیے تو اسے نکالنا ہی پڑے گا کیونکہ اس کی وجہ سے ہر وقت بے چینی رہتی ہے۔میں ہونٹوں کو ہلا بھی نہیں سکتا کیونکہ جس جگہ پر دانت آتا ہے وہاں درد ہوتی ہے۔دوسرے کھانے کی بھی بڑی دقت ہے۔وہ کہتے ہیں دانت بڑی دیر میں بن سکیں گے اور چونکہ یہی دانت ڈنچر 2 کے لیے سہارے کا کام دیتا ہے اس لیے اگر یہ سہارا نہ رہا تو دانتوں سے چبانا بالکل ناممکن ہو جائے گا۔میں نے احتیاطاً ابھی سے حریرہ 3 وغیرہ کھانا شروع کر دیا ہے تا کہ دانتوں سے چبانے کا سوال ہی پیدا نہ ہو اور ارادہ ہے کہ کچھ دنوں تک طبیعت اچھی ہوئی تو ایک دن لاہور جاکر ایکسرے کراؤں گا۔اور اگر دانت نکلوانے کا فیصلہ ہوا تو اسے نکلوا دوں گا تا کہ روز روز کی تکلیف