خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 298 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 298

$1958 298 خطبات محمود جلد نمبر 39 جب جمعہ کی اذان ہو تو تم جلدی جلدی باقی تمام کام چھوڑ کر جمعہ کی نماز کے لیے چلے جایا کرو۔حقیقت یہ ہے کہ نماز جمعہ مسلمانوں کے لیے مدرسہ کے طور پر ہے۔اس میں لوگ امام سے مختلف باتیں سنتے ہیں جن میں انہیں دین کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں جماعت کا مرکزی حصہ مدینہ میں رہتا تھا۔اور ان حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں جماعت کا مرکزی حصہ قادیان میں رہتا تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کبھی کبھی عورتوں میں بھی تقریر فرمایا کرتے تھے جس طرح رسول ا کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی کبھی کبھی عورتوں میں تقریر فرمایا کرتے تھے۔حضرت خلیفہ اول بھی عورتوں میں ہر تیسرے دن درس دیا کرتے تھے۔اب ہماری باہر کی جماعتیں درس القرآن سے فائدہ نہیں اُٹھا سکتیں کیونکہ ہمارے پاس نہ تو زیادہ عالم ہیں اور نہ مبلغ ہیں اس لیے عورتوں کو اسلام نے ہدایت دی ہے کہ وہ نماز جمعہ میں شامل ہوا کریں۔مجھے یہ بات سن کر نہایت افسوس ہوا کہ ہزارہ کے مبلغ نے مجھ سے ذکر کیا کہ صوبہ سرحد میں عورتیں جمعہ میں نہیں جاتیں کیونکہ اُن کے مرد کہتے ہیں کہ ہم خان ہیں ہماری اس میں ہتک ہوتی ہے۔لیکن اسلام کا رتبہ خانوں اور پٹھانوں سے بھی بڑا ہے۔اول تو ہمیں یہ ان فیصلہ کرنا چاہیے کہ مسلمان بڑا ہوتا ہے یا خان بڑا ہوتا ہے۔نیک محمد خان صاحب پہلے پہلے قادیان آئے تو وہ چھوٹے بچے تھے، اُن کا باپ قندھار کا گورنر تھا۔حضرت خلیفہ اول کا جب آپریشن ہونے لگا تو اس خیال سے کہ لوگ ہجوم کریں گے اور اس سے کہیں آپریشن خراب نہ ہو جائے نیک محمد خان کو کمرہ سے باہر پہرہ پر کھڑا کر دیا گیا۔اکبر شاہ نجیب آبادی کا یہ دعوی ہوا کرتا تھا کہ میں حضرت خلیفہ اول کا بہت پیارا ہوں اس لیے وہ یہ کی سنتے ہی کہ حضرت خلیفہ اول کا آپریشن ہونے لگا ہے دوڑتے ہوئے آئے لیکن جب وہ کمرہ میں داخل ہونے لگے تو نیک محمد خاں نے روک لیا۔اس پر وہ کہنے لگے تم نہیں جانتے میں کون ہوں؟؟ نیک محمد خاں کہنے لگے آپ کون ہیں؟ انہوں نے کہا میں پٹھان ہوں۔اکبر شاہ خان یو۔پی کے رہنے والے تھے اور نسلاً پٹھان تھے لیکن نیک محمد خان افغانستان سے تھوڑا ہی عرصہ پہلے آئے تھے۔اس خطبہ کے بعد پشاور کے جو موجودہ امیر ہیں اُنہوں نے کہا کہ یہ کسی خاص شہر کی بات ہوگی ورنہ ہمارے ہاں تو پشاور میں عورتیں جمعہ کے لیے باقاعدگی سے جاتی ہیں۔