خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 289 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 289

خطبات محمود جلد نمبر 39 289 $1958 کوشش بھی کرتے ہیں یا نہیں؟ یہ کتنے ظلم کی بات ہے کہ ہم خدا تعالیٰ سے صراط مستقیم تو مانگتے ہیں لیکن صراط مستقیم کے لیے کوشش نہیں کرتے۔یہ تو منافقت کی علامت ہے کہ ہم چونتیس دفعہ خدا تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں ہمیں صراط مستقیم دکھا لیکن ہمارا طریق یہ ہے کہ اگر ہمارا کوئی دوست ذراسی بات بھی خدا اور اُس کے رسول کے خلاف ہمارے کان میں ڈالے تو ہم اُسے تسلیم کر لیتے ہیں اور خدا اور اُس کے رسول کے مخالف ہو جاتے ہیں۔اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم روزانہ نمازی میں کھڑے ہو کر میں سے زیادہ دفعہ جھوٹ بولتے ہیں اور کہتے تو یہ ہیں کہ اے اللہ! تو ہمیں صراط مستقیم بخش! لیکن عملاً ہم ٹیڑھا رستہ اختیار کر لیتے ہیں حالانکہ ہم خالی رستہ بھی نہیں مانگتے بلکہ کہتے ہیں صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ 16 ہمیں نبیوں والی صراط مستقیم دکھا یعنی ما نگتے تو یہ کی ہیں کہ ہمیں وہ طریق بتا جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا، وہ رستہ بتا جو حضرت موسی علیہ - السلام نے اختیار کیا، وہ رستہ بتا جو حضرت عیسی علیہ السلام کا تھا، جو حضرت زکریا علیہ السلام کا تھا، جو حضرت یحییٰ علیہ السلام کا تھا، جو حضرت حزقیل علیہ السلام کا تھا، جو حضرت یرمیاہ علیہ السلام کا تھا، جو حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تھا، جو حضرت نوح علیہ السلام کا تھا، جو حضرت آدم علیہ السلام کا تھا۔گویا ہم کوئی چھوٹی بات نہیں مانگتے بلکہ سارے نبیوں کے کمالات مانگتے ہیں لیکن خود ایک منافق جتنا کام بھی نہیں کرتے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ ہم اپنے منہ سے اپنے جھوٹا ہونے کا اقرار کرتے ہیں۔اور جب ہم اپنے جھوٹا ہونے کا خود اقرار کرتے ہیں تو ہماری دُعا کیوں قبول ہو؟ پھر انسان کہتا ہے کہ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلَا الضَّالِّينَ 17 که البى ! ہمیں یہودیوں جیسا نہ بنائیں ہمیں عیسائیوں جیسا نہ بنائیو بلکہ ہمیشہ اُن لوگوں میں شامل رکھیو جو تیری رضا کی حاصل کر چکے ہیں۔اگر ہم اخلاص سے یہ دعا مانگیں تو یقینا ہمیں خدا تعالیٰ قیامت تک عیسائیوں اور یہودیوں کے نقش قدم پر چلنے سے بچائے گا اور اسلام کی فتح کے نقارے دنیا میں بجنے لگ جائیں گے۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اب احمدیوں کے ہاتھ سے کوئی اکا دُکا مسلمان ہوتا ہے اور غیر احمدی اس سے بہت متاثر ہوتے ہیں۔مگر سوال یہ ہے کہ اس سے اسلام کا غلبہ نہیں ہوتا۔غلبہ کے تو یہ معنے ہیں کہ اسلام اتنا پھیل جائے کہ دوسرے تمام مذاہب دب جائیں لیکن ابھی وہ بات پیدا نہیں ہوئی اور یہ نقص صرف اس لیے ہے کہ ہم سورۃ فاتحہ پورے اخلاص سے نہیں پڑھتے۔اگر ہم سورۃ فاتحہ پور۔