خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 288 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 288

1958ء 288 خطبات محمود جلد نمبر 39 بادشاہ نے کسی اور شخص کو طلب کیا تھا مگر غلطی سے آپ کے نام پیغام بھیج دیا گیا۔ آپ بیشک تشریف نہ لائیں۔ تو دیکھو ہمارا خدا رب العالمین ہے۔ اس نے اس اپانچ کے لیے بھی اس بزرگ کی زیارت کا سامان کر دیا اور اس بزرگ کو اس کے پاس لیے گیا۔ پھر اس کے بعد فرماتا ہے اللہ ساری تعریفوں کا اس لیے مستحق ہے کہ وہ مُلِكِ يَوْمِ الدِّينِ بھی ہے اور اس کی تعریف کی یہ علامت ہے کہ جب مومن اس کے عظیم الشان احسانات دیکھتا ہے تو بے اختیار کہہ اٹھتا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ 14 یعنی اے خدا! تیرے اتنے بڑےاحسانوں کے ہوتے ہوئے میں کسی اور کی عبادت نہیں کر سکتا ۔ اُس کو یہ بات نظر آ جاتی ہے کہ اس احسان کرنے والے خدا کو چھوڑ کر میں بنوں کے سامنے کیوں جھکوں؟ انہوں نے مجھ پر کونسا احسان کیا ہے؟ خدا تعالیٰ کے تو مجھ پر بے شمار احسانات ہیں، میرے بیوی بچوں پر احسانات ہیں، میرے ہمسایوں پر احسانات ہیں بلکہ میرے دشمنوں پر بھی اُس کے احسانات ہیں، وہ مجھے اور میرے عزیزوں کو بھی رزق دیتا ہے، میرے دشمنوں کو بھی رزق دیتا ہے اس لیے وہ اس قابل ہے کہ میں اُسی کے آگے جھکوں۔ چنانچہ وہ بے اختیار ہو کر کہہ اٹھتا ہے إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَ إِيَّاكَ نَسْتَعِينُ یعنی اے خدا! جب تو مجھے بن مانگے دے رہا ہے تو میں کسی اور سے کیوں مانگوں؟ میں تجھ سے ہی مانگوں گا۔ دوسرا کوئی میری ضرورت کو کیا پورا کرے گا۔ وہ تو مانگوں بھی تو کچھ نہیں دے سکتا اور تو مجھے بن مانگے دے رہا ہے۔ اور پھر مجھے ہی نہیں دے رہا بلکہ ان کو بھی دے رہا ہے جو تیرے نبیوں کے دشمن ہیں اور تجھ کو بھی گالیاں دیتے ہیں ۔ مجھے یاد ہے حضرت خلیفہ اول فرمایا کرتے تھے دیکھو! اللہ تعالیٰ نے انسان کو زبان عطا فرمائی ہے جس سے سے وہ و اُسے گالیاں بھی بھی دے د لیتا ہے مگر وہ اس قانون کو کہ زبان کڑوے کو کڑوا اور میٹھے کو میٹھا چکھے کبھی تبدیل نہیں کر سکتا۔ گویا خدا تعالیٰ نے ایک طرف تو انسان کو اپنے قانون کا ایسا پابند بنایا ہے کہ وہ اُس کے خلاف نہیں کر سکتا اور دوسری طرف اسے ایسا با اختیار بنایا ہے کہ وہ چاہے تو اس زبان کے ساتھ خدا تعالیٰ کو بھی گالیاں دے لے یا چاہے تو اُس کی تسبیح و تحمید کرے۔ پھر وہ کہتا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ 15 اے خدا! تو مجھے صراط مستقیم دکھا دے۔ اب سوال یہ ہے کہ جو لوگ خدا تعالیٰ سے صراط مستقیم مانگتے ہیں وہ صراط مستقیم کے لیے کوئی