خطبات محمود (جلد 39) — Page 284
284 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 پ نے فرمایا تیری قسمت اچھی تھی کہ تو مجھے دکھائی نہ دیا ورنہ خدا کی قسم ! اگر میں تجھے دیکھ لیتا تو میں نے تجھے ضرور مار ڈالنا تھا کیونکہ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے والا کبھی پسند نہیں آیا۔تو دیکھو حضرت ابو بکر جو نہایت رحیم و کریم انسان تھے انہوں نے بھی اپنے بیٹے کے متعلق کسی رحم کے جذبہ کا اظہار نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ اگر میں تجھے دیکھ لیتا تو ضر ورقتل کر دیتا۔پس اگر مسلمانوں پر چھوڑا جا تا تو وہ مکہ والوں کو کبھی زندہ نہ رہنے دیتے لیکن رب العالمین ، رحمان و رحیم خدا نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کو حکم دیا کہ ان لوگوں کو زندہ رکھو۔اس لی وقت یہ بات مسلمانوں کو بُری لگی۔چنانچہ حضرت خالد بن ولید جس دروازہ سے مکہ میں داخل ہوئے اُس طرف بعض مشرک اُن کے سامنے آگئے اور آپ نے انہیں قتل کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع ہوئی تو آپ نے سخت بُرا منایا اور فرمایا میں نے تو حکم دیا تھا کہ شہر میں گھستے ہوئے کسی کو قتل نہیں کرنا چاہیے۔خالد بن ولید نے کہايَا رَسُولَ اللہ ! یہ لوگ ہمارا راستہ روک کر کھڑے تھے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمہیں کس نے حکم دیا تھا کہ راستہ روکنے والوں کو مار ڈالو؟ جب میں نے حکم دیا تھا کہ کسی کو نہیں مارنا تو تم نے انہیں کیوں مارا؟ 8 پھر آخری فیصلہ جب خدا تعالیٰ نے آپ سے کرایا تو یہی کرایا کہ لَا تَثْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ یعنی تمہیں کوئی سزا نہیں ملے گی۔جاؤ تمہیں معاف کیا جاتا ہے۔ابوسفیان جس نے ساری عمر آپ کی مخالفت کی اس کی بیٹی حضرت اُمّ حبیبہ سے آپ نے شادی کر لی تھی۔ایک دفعہ آپ گھر پر تشریف لائے تو آپ نے دیکھا کہ حضرت اُم حبیبہ نے کی اپنے چھوٹے بھائی معاویہؓ کا سر اپنی ران پر رکھا ہوا ہے اور اُن سے پیار کر رہی ہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھ کر وہ شرما گئیں اور خیال کیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کہیں بُرا نہ منائیں لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا معاویہ تمہیں پیارا لگتا ہے؟ انہوں نے کہا ہاں يَا رَسُولَ الله ! آپ نے فرمایا میں بھی اس سے پیار کرتا ہوں حالانکہ وہ آپ کے شدید ترین دشمن ابوسفیان کا بیٹا تھا جس نے اُحد کے موقع پر آپ کو زخمی کر دیا تھا۔خود کا کیل آپ کے سر میں گڑ گیا تھا اور آپ کے بعض دانت بھی ٹوٹ گئے تھے۔10 پھر ابو جہل آپ کا کتنا شدید دشمن تھا؟ ابو جہل کے خلاف مسلمانوں میں اس قدر جوش تھا کہ