خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 270 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 270

خطبات محمود جلد نمبر 39 270 1958ء نتیجہ میں ربوہ کے مرکز کو کسی قدر مشکلات پیش آسکتی ہیں لیکن اگر ہماری جماعت کی تعداد بڑھ جائے اور چندوں میں بھی اضافہ ہو جائے تو باوجود اس کے کہ ہماری بیرونی آمدنوں کا ایک حصہ قادیان میں منتقل ہو جائے گار بوہ پھر بھی آباد ر ہے گا ۔ اِنْشَاءَ اللهُ۔ ادھر ہماری جماعت کے دوستوں کا فرض ہے کہ وہ ربوہ میں مختلف قسم کی صنعتیں اور چھوٹی چھوٹی دستکاریاں جاری کریں تا کہ جس طرح دوسرے شہر اپنے طبعی سامانوں کی وجہ سے آباد ہیں وہی طبعی سامان ربوہ کو بھی میسر آ جائیں اور اس کی آبادی ترقی کرتی چلی جائے ۔ تمام جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ یہ روح اپنے افراد میں پیدا کریں ، خصوصیت کے ساتھ پاکستان کی جماعتیں ربوہ کو آباد کرنے کی طرف توجہ کریں۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ قادیان کو آباد کرنا بھول جائیں بلکہ یہ طریق اختیار کیا جائے کہ امریکہ، افریقہ، یورپ اور دوسرے بیرونی ممالک کی جماعتیں زیادہ زور قادیان کو آباد کرنے پر لگائیں اور اس سے اُتر کر ربوہ کی آبادی کی طرف توجہ دیں اور پاکستان کی جماعتیں زیادہ زور ربوہ کو آباد کرنے پر دیں اور جہاں تک قانون اجازت دیتا ہو قادیان کی آبادی کی طرف توجہ کریں ۔ اگر ذمہ داری کو تقسیم کر لیا جائے تو کام زیادہ سہولت سے ہوسکتا ہے۔ پھر اگر تم خدا تعالیٰ سے بھی دعائیں کرو تو وہ تمہیں اس کام کو پورا کرنے کی توفیق عطا فرما دے گا اور ان دونوں شہروں کی آبادی کے سامان پیدا کر دے گا۔ تم اپنے ایمانوں کو مضبوط کرو اور اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کے ہاتھوں میں دے دو اور اُس سے ہر وقت دُعائیں کرتے رہو کہ وہ خود ایسے سامان پیدا کرے کہ یہ دونوں شہر جلد سے جلد آباد ہو جائیں ۔ وہ خدا جو حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر اب تک اپنی قائم کردہ جماعتوں کے لیے غیر معمولی سامان پیدا کرتا چلا آیا ہے وہ اب بھی اس بات پر قادر ہے کہ وہ ہمارے لیے غیر معمولی سامان پیدا کر دے لیکن اس کے لیے ضروری ہے کہ تم ان تمام صلحاء ( غیر مطبوعه مواد از خلافت لائبریری ربوه ) کے نقش قدم ۔ وو پھر فرماتا ہے وَجَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِهِ الله تعالیٰ کے راستہ میں ایسا جہاد کرو جو جہاد کا حق ہے۔ جہاد کا حق ہے“ کہہ کر بتا دیا کہ جہاد کی جتنی قسمیں ہیں تم ان تمام قسموں کو پورا کر و صرف تلوار کا جہاد ہی جہاد نہیں بلکہ اسلام کی اشاعت کے لیے ہر قسم کی قربانیاں کرنا اور دلائل اور براہین سے دشمنوں کا مقابلہ کرنا بھی جہاد میں ہی شامل ہے۔ اور یہ وہ جہاد ہے جو