خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 265 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 265

$1958 265 خطبات محمود جلد نمبر 39 حضرت موسی علیہ السلام کی چھوٹی ہوتی لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام کے زمانہ پر تین ہزار سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وفات پائے صرف چودہ سو سال ہوئے ہیں مگر حضرت موسی علیہ السلام کی جماعت میں اب تک ظاہری ایمان بھی پایا جاتا ہے اور ان کی قوم اب پھر فلسطین پر حاکم ہوگئی ہے جس کی سورۃ بنی اسرائیل میں خبر دی گئی تھی۔میں نے جب اس پر غور کیا تو مجھے معلوم ہوا کہ اصل بات یہ ہے کہ حضرت موسی علیہ السلام کی قوم مظلوم تھی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم ظالم تھی یعنی حضرت موسی علیہ السلام پر فرعون نے ظلم کیا تھا مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم پر کسی اور نے ظلم نہیں کیا بلکہ انہوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ظلم کیا۔اور اللہ تعالیٰ کو ظالم سے اتنی ہمدردی نہیں ہوتی جتنی مظلوم سے ہوتی ہے۔چونکہ حضرت موسی علیہ السلام کی قوم مظلوم تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کی عمر لمبی کر دی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوم چونکہ خود ظالم تھی اور آخر وہی قوم مسلمان ہوئی تھی اور وہ وہی لوگ تھے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی جماعت کو گھروں سے نکالتے تھے، انہیں مارتے اور ان پر ظلم کرتے تھے اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان سے وہ سلوک نہ کیا جو حضرت موسی علیہ السلام کی قوم سے اس نے کیا تھا۔اس میں کوئی شبہ نہیں ہے کہ مکہ والے بعد میں ایمان لائے لیکن شروع میں انہوں نے بڑے بڑے ظلم کیے تھے۔چنانچہ تاریخ میں لکھا ہے کہ ایک دفعہ حضرت عمرؓ صبح کے بعد مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ لوگ عید کی مبارکباد دینے کے لیے آنا شروع ہوئے۔مکہ کے بعض رؤساء جو اسلام کے سخت دشمن تھے اُن کی اولادیں بھی جو اب مسلمان ہو گئی تھیں آئیں۔حضرت عمرؓ کا خاندان چونکہ نسب یا د رکھا کرتا تھا اور اسے مکہ کے لوگوں میں سے سب سے زیادہ خاندانوں کا نسب نامہ یاد تھا اس لیے حضرت عمرؓ اُن کے خاندانوں سے خوب واقف تھے۔آپ نے انہیں محبت سے اپنے قریب جگہ دی۔جب وہ بیٹھ گئے اور خوش ہوئے کہ خلیفہ وقت نے ہماری بڑی عزت کی ہے، تو اتنے میں کوئی صحابی آگئے۔آپ نے اُنہیں فرمایا ذرا پیچھے ہٹ جاؤ اور اس صحابی کو جگہ دے دو۔وہ پیچھے ہٹ گئے اور اس صحابی کو جگہ دے دی۔پھر کوئی اور صحابی آ گیا تو آپ نے کہا ذرا اور پیچھے ہٹ جاؤ اور اس کو جگہ دو۔پھر ایک مسلمان غلام آگئے تو حضرت عمرؓ نے فرمایا ذرا اور پیچھے ہٹ جاؤ اور اس کو جگہ دے دو۔حتی کہ وہ لوگ ہٹتے ہٹتے جو تیوں میں پہنچ گئے۔انہیں یہ دیکھ کر کہ وہ رؤساء کے بیٹے ہیں اور ان پر غلام صحابہ کو