خطبات محمود (جلد 39) — Page 263
263 $ 1958 خطبات محمود جلد نمبر 39 سے ثابت ہو گیا کہ انہوں نے اپنے محبوب ترین وجود کے متعلق بھی کوئی ایسی بات برداشت نہ کی جو خدا تعالیٰ کی توحید کے منافی تھی۔اور جب کسی نے کہا کہ وہ زندہ ہیں تو آپ نے فرمایا ہر گز نہیں صرف اللہ تعالی ہی دائی طور پر زندہ ہے اور وہ بھی نہیں مرے گا۔میں موجود ہوں اور یہی تعلیم مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دی تھی۔یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ آپ کی وفات کے بعد ہی میں اس تعلیم کو بھول جاؤں۔چنانچہ لکھا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر سن کر آپ تشریف لائے تو آپ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشانی پر بوسہ دیا اور فرمایاخدا کی قسم! اللہ تعالیٰ آپ پر دو موتیں جمع نہیں کرے گا۔یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ آپ پر جسمانی موت بھی آئے اور روحانی موت بھی آئے۔یعنی آپ کی موت کے ساتھ آپ کا مذہب بھی ضائع ہو جائے۔آپ کا مذہب بہر حال قائم رہے گا۔جسمانی موت آئی ہے لیکن آپ پر روحانی موت نہیں آ سکتی۔ایسی ہی توحید کی طرف اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں توجہ دلائی ہے کہ یا يُّهَا الَّذِينَ امَنُوا ارْكَعُوا اے مومنو! کامل توحید اختیار کرو اور ہر طرف سے ہٹ کر صرف خدا تعالیٰ کی طرف توجہ رکھا کرو۔تمہارا کتنا ہی کوئی عزیز ہوا گر وہ تم سے علیحدہ ہوتا ہے لیکن خدا تعالیٰ کی محبت تمہیں حاصل ہے تو تمہیں خدا تعالیٰ پر اتنا یقین ہونا چاہیے اور اتنا تو کل ہونا چاہیے کہ تمہیں سمجھنا چاہیے کہ کوئی شخص تمہیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔پھر فرماتا ہے وَاسْجُدُوا تم سجدہ کرو۔یہاں بھی سجدہ سے مُراد نماز والا سجدہ نہیں کیونکہ آگے فرمایا ہے وَاعْبُدُوا رَبَّكُمْ تم اپنے رب کی عبادت کرو اور عبادت میں سجدہ خود شامل ہوتا ہے۔پس یہاں سجدہ سے مُراد اطاعت اور فرمانبرداری ہے اور اسجدوا کے معنے یہ ہیں کہ تم اپنے ماں باپ اور بزرگوں اور حکومت کی اطاعت کرو۔یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ اپنے اندر نظم پیدا کرو، بھی اپنے اندر بغاوت کی روح نہ آنے دو۔نہ اپنے خاندانی بزرگوں سے بغاوت کرو اور نہ اپنے مذہبی بزرگوں سے بغاوت کرو اور نہ حکومت کے عمال سے بغاوت کرو بلکہ ہمیشہ اطاعت اور فرمانبرداری کے ساتھ اپنی زندگی بسر کرو وَاعْبُدُوا رَبَّكُم اور اپنے رب کی عبادت کرو وَافْعَلُوا الْخَيْرَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ اور ہمیشہ سب سے اچھا کام کرنے کی کوشش کرو۔خیر کے معنے عربی زبان کی میں صرف نیکی کے نہیں ہوتے بلکہ اس کے معنے ایسے فعل کے ہوتے ہیں جن میں وہ تمام کمالات اور