خطبات محمود (جلد 39) — Page 224
$ 1958 224 خطبات محمود جلد نمبر 39 باتوں کے لیے مارے مارے پھرنے لگیں اور دنیا طلبی کی خواہش ان میں پیدا ہوگئی تو پھر ان کا وجود نہ دین کے لیے مفید ہوگا اور نہ دنیا میں وہ کوئی عزت حاصل کر سکیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو تو دنیا طلبی سے اتنی نفرت تھی کہ ہمارے بڑے بھائی مرزا سلطان احمد صاحب مرحوم نے تحصیلداری کا امتحان دیا تو حضرت صاحب کو بھی انہوں نے دُعا کے لیے لکھا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو اُن کا رقعہ پڑھ کر سخت غصہ آیا اور کی آپ نے اسے پھاڑ دیا مگر ادھر آپ نے رقعہ پھاڑا اور اُدھر آپ کو الہام ہوا کہ ” پاس ہو جائے ‘۔18 چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ایسا فضل کیا کہ وہ پاس ہو گئے اور پھر قائمقام ڈپٹی کمشنر ہو کر ریٹائر ہوئے۔تو اللہ تعالیٰ جن کو روحانی مراتب عطا فرماتا ہے اُن کو ضرورت نہیں ہوتی کہ وہ دنیا کے لوگوں کے پاس جائیں بلکہ دنیا کے لوگوں کو ضرورت ہوتی ہے کہ وہ ان کے پاس آئیں اور ان کی سے فیض اٹھا ئیں۔ایک دفعہ کشمیر کے فسادات کے سلسلہ میں میں شملہ گیا اور لارڈ ولنگڈن سے ملا۔ملاقات کے بعد لارڈ ولنگڈن کا سیکرٹری میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ میرا اسٹنٹ جو مسٹر گریفن کا پوتا ہے وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے۔میں نے اُس سے کہیں ذکر کیا تھا کہ مسٹر گریفن کا میرے دادا سے بڑا تعلق ہے اور اس کی کئی چٹھیاں ہمارے دادا کے نام موجود ہیں۔اُس نے اس بات کا اپنے اسٹنٹ سے ذکر کر دیا کیونکہ وہ مسٹر گریفن کا پوتا تھا اور اس نے مجھ سے ملنے کی خواہش کی۔چنانچہ وہ مجھ سے ملا اور کہنے لگا کہ میں اپنے دادا کی وہ چٹھیاں دیکھنا چاہتا ہوں جو انہوں نے آپ کے دادا کولکھی تھیں۔میں نے کہا کہ وہ کتاب البریہ میں چھپی ہوئی ہیں۔آپ جب چاہیں وہاں سے دیکھ سکتے ہیں۔مسٹر گریفن امرتسر کا کمشنر تھا اور اُس زمانہ میں کمشنر کے اختیارات گورنر کے برابر ہوا کرتے تھے اور کمشنری بھی صرف کی امرتسر کی ہی ہوا کرتی تھی۔جب ہم وہاں سے فارغ ہو کر باہر نکلے تو سامنے سے وائسرائے اپنی موٹر میں آ رہا تھا۔اُس کا کوئی دانت خراب تھا وہ ڈاکٹر کو دکھانے کے لیے جا رہا تھا۔اُس نے جب مجھے دیکھا تو دور سے ہی مجھے سلام کرنا شروع کر دیا مگر میں نے نہ پہنچانا کہ یہ کون شخص ہے۔چنانچہ میں نے درد صاحب سے پوچھا کہ یہ کون ہے جس نے سلام کیا ہے؟ وہ کہنے لگے ابھی تو آپ ان سے مل کر آئے ہیں۔یہ لارڈ ولنگڈن تھے اور انہوں نے تو آپ کو دیکھ کر دور سے ہی سلام کرنا شروع کر دیا تھا۔