خطبات محمود (جلد 39) — Page 223
$1958 223 خطبات محمود جلد نمبر 39 چار پانچ گھنٹے باہر رہے۔نماز پڑھ کر ہم واپس آ رہے تھے کہ تحصیلدار صاحب میرے پاس دوڑتے ہوئے آئے اور کہنے لگے میں نے جو خط آپ کو بھیجا تھا وہ آپ کو مل گیا ہے یا نہیں ؟ میں نے کہا نہیں میں تو ابھی باہر سے آرہا ہوں۔انہوں نے کہا کہ گورنر صاحب نے مجھے ایک خط دیا تھا اور کہا تھا کہ آپ کی کو پہنچا دیا جائے اور آپ کے گھر سے کسی فلاں آدمی نے دستخط کیے ہیں۔میں نے کہا اس نام کا تو ہمارے ساتھ کوئی آدمی نہیں۔وہ کہنے لگے آپ گھر جا کر مجھے اطلاع بھجوائیں، ایسا نہ ہو کہ وہ خط ضائع ہو جائے اور گورنر صاحب مجھ پر ناراض ہوں۔راستہ میں میں نے اپنی ہمشیرہ اور اُمم طاہر مرحومہ سے کہا کہ یہ وہی بات ہے جو میں نے کہی تھی اور گو وہ خط میں نے ابھی تک نہیں دیکھا مگر اُس میں یہی مضمون کی ہوگا کہ میں آپ سے ملنا چاہتا ہوں۔چنانچہ گھر پہنچنے پر خط کھولا تو اس میں لکھا ہوا تھا کہ اگر کل عصر کے وقت آپ میرے ساتھ چائے پیئیں تو آپ کا مجھ پر بڑا احسان ہوگا۔پھر ہم نے تحقیق کی کہ اس چٹھی کو وصول کس نے کیا تھا تو معلوم ہوا کہ ہمارے ہاں کوئی مہمان آئے ہوئے تھے انہوں نے اُس وقت دستخط کر دیئے تھے کیونکہ گھر میں اور کوئی آدمی نہیں تھا۔چونکہ میرے دل میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے ہی یہ خیال ڈالا گیا تھا کہ گورنر پنجاب مجھ سے کانگڑہ کے ضلع میں ملیں گے اس لیے میں نے ان سے ملنا منظور کر لیا۔دوسرے دن مقررہ وقت پر میں ان سے ملا اور ان کا بیٹا جو کانگڑہ کے ضلع میں ڈی سی تھا اور اُن کی بہو بھی وہاں موجود تھیں انہوں نے اپنے بیٹے اور بہو کو میرے سامنے اس طرح پیش کیا جیسے میں نواب ہوں اور وہ میرے نوکر ہیں۔اور پھر پانچ بجے سے لے کر نو بجے تک پورے چار گھنٹے وہ مجھ سے باتیں کرتے رہے۔چونکہ رات زیادہ ہوگئی تھی اور پہاڑوں پر سردی ہوتی ہے اس لیے وہ اندر سے کمبل لے آئے۔انہوں نے میرے پیروں پر ڈال دیا۔میں نے اُن سے ایک دفعہ کہا کہ اب وقت کی زیادہ ہو گیا ہے اور پہاڑی علاقہ ہے۔وہ کہنے لگے آپ کچھ فکر نہ کریں میری ڈانڈی 17 آپ کو لے جائے گی اور پولیس آپ کے ساتھ جائے گی۔چنانچہ رات کے نو بجے ہم اُٹھے اور سرکاری ڈانڈی جس کے ساتھ حفاظت کے لیے پولیس مقررتھی مجھے اپنے مکان پر پہنچانے کے لیے بھجوائی گئی۔اب بتاؤ کہ جس سے ملنے کے لیے خود گورنر آئے اور اُس کے سامنے اپنے بیٹے اور بہو کو پیش کرے اُسے کیا ضرورت ہے کہ وہ کسی کی سفارش کے لیے گورنر کے پاس جائے۔اگر ہماری آئندہ اولادیں بھی ایسی ہی با غیرت ہوں تو ہمارے لیے خوشی کا مقام ہے۔لیکن اگر خدانخواستہ وہ چھوٹی چھوٹی