خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 218 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 218

خطبات محمود جلد نمبر 39 218 1958ء رہتے تو لاکھوں سال تک خدا تعالیٰ کی حفاظت بھی اُن کے شاملِ حال رہتی۔ لیکن چونکہ تمیں سال کے بعد حد ہی خلافت راشدہ ان میں باقی نہ رہی اور حضرت عثمان اور حضرت اور حضرت علیؓ کے زمانہ میں ہی فتنے پیدا ہونے شروع ہو گئے اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ اُس وقت مسلمانوں کے ایک طبقہ کے اندر نور ایمان باقی نہیں رہا تھا اور جب نو رایمان باقی نہ رہا تو خدا تعالیٰ نے بھی اپنی نصرت کا ہاتھ اُن سے کھینچ لیا۔ آخر یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ کسی جگہ نور ہو اور وہاں خدا نہ ہو؟ جہاں بھی ایمان اور عمل صالح کا نور ہوگا وہاں خدا ضرور ہوگا۔ اور جہاں ایمان اور عمل صالح نہیں رہے گا وہاں خدا تعالیٰ بھی پیچھے ہٹ جائے گا۔ دیکھ لو اگر آج مسلمانوں کے اندر وہی ایمان پایا جاتا جو امام حسین کے اندر پایا جاتا تھا یا حضرت عثمان اور حضرت علیؓ کے اندر پایا جاتا تھا تو کیا وہ دنیا میں ذلیل ہوتے؟ وہ ہر جگہ غالب ہوتے اور دنیا کی کوئی قوم ان کا مقابلہ نہ کر سکتی ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آج بھی مسلمانوں کے پاس بادشاہت ہے مگر بادشاہت اصل چیز نہیں بلکہ دل کی پاکیزگی اصل چیز ہے۔ یوں تو عیسائیوں کو بھی بادشاہت ملی ہوئی ہے مگر اس بادشاہت کے باوجود خدا تعالیٰ کی لعنتیں اُن پر برس رہی ہیں ۔ اسی طرح اسرائیل کے پاس بھی بادشاہت ہے مگر قرآن کہتا ہے کہ داؤد اور مسیح کی بددعا کی وجہ سے خدا تعالیٰ نے ان پر لعنت ڈالی ہوئی ہے ۔ 11 پس بادشاہت کے ملنے پر خوش نہیں ہو جانا چاہیے اور نہ خدا تعالیٰ سے بادشاہت مانگنی چاہیے بلکہ خدا تعالی سے یہ دعائیں کرنی چاہیں کہ خدایا! تو ہمیشہ ہمارا اور ہماری اولادوں کا ساتھ دے اور ہم میں نور ایمان کو قائم رکھ اور ہمیں ایسے اعمال کے بجالانے کی توفیق عطا فرما جو دنیا و آخرت میں تیری رضا کا موجب ہوں۔ اس کے بعد خدا تعالیٰ جو کچھ چاہے گا تمہیں عطا فرمادے گا۔ چنانچہ قرآن کریم نے مومنوں کو جو دعا سکھلائی ہے وہ یہی ہے کہ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَ فِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ 12 یعنی اے خدا! تو ہمیں دنیا میں بھی حسنہ دے اور آخرت میں کی بھی حسنہ دے۔ اگر خالی دنیوی عزت ملے جس کے ساتھ اخروی عزت نہ ہو تو وہ ایک لعنت ہوتی ہے۔ جیسے یہود کو آجکل خالی دنیوی عزت ملی ہوئی ہے یا عیسائیوں کو صرف دنیوی عزت ملی ہوئی ہے مگر اُخروی عزت سے انہیں کوئی حصہ نہیں ملا لیکن خالی اُخروی عزت بھی ایک بے ثبوت چیز ہوتی ہے۔ ثبوت والی چیز وہی ہوتی ہے جس میں دین اور دنیا دونوں اکٹھے ملیں ۔ پس رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا