خطبات محمود (جلد 39) — Page 214
$1958 214 خطبات محمود جلد نمبر 39 ہے۔پھر وہ ان کے پیروں میں رسیاں باندھ کر کھنگھر وں والی گلیوں میں گھسیٹتے جس سے اُن کا تمام بدن پھولئیاں ہو جاتا مگر اس کے باوجود اُن کی زبان سے یہی الفاظ نکلتے کہ اللهُ اَحَدٌ اللَّهُ اَحَدٌ الله اکیلا ہے۔اللہ اکیلا ہے۔6 ان کی یہ قربانی اللہ تعالیٰ کو ایسی پسند آئی کہ ایک دفعہ جبکہ وہ مدینہ میں اذان دے رہے تھے کچھ نوجوانوں نے ہنسنا شروع کر دیا۔بلال چونکہ حبشی تھے اس لیے وہ اَشْهَدُ کہنے کی بجائے اَسْهَدُ کہا کرتے تھے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تشریف لے آئے تو آپ نے حضرت بلال کو مو ون مقر رفرما دیا مگر وہ ہمیشہ اَشْهَدُ کی بجائے اَسهَدُ کہا کرتے کیونکہ وہ ش کا لفظ ادا نہیں کر سکتے تھے۔مدینہ کے بچے اور حدیث العہد نو جوان ان کی اذان سنتے تو اسهَدُ اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله کہنے پر وہ ہنس پڑتے۔ایک دفعہ وہ اسی طرح ہنسے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم تو بلال کے اَسْهَدُ لله اَنْ لَّا إِلَهَ إِلَّا الله کہنے پر ہنستے ہومگر میں نے کشفی حالت میں دیکھا ہے کہ خدا عرش پر بلال کے اَسهَدُ کہنے پر خوش ہو رہا ہے۔Z گویا جس چیز کو تم ہنسی اور تحقیر کا موجب سمجھ رہے ہو وہی اس کی شان کو بڑھانے والی اور اس کی عزت کو دوبالا کرنے والی ہے کیونکہ اس نے اُس وقت اسلام قبول کیا تھا جب تمام لوگ دشمن تھے اور اسلام کے قبول کرنے پر اسے بڑی بڑی اذیتیں دیا کرتے تھے۔حضرت عثمان کے خلاف جب فتنہ اُٹھا اور لوگوں نے آپ کو شہید کرنا چاہا تو اس وقت حضرت بلال نے ان لوگوں کو سمجھایا اور کہا کہ اے لوگو! تم ایسا نہ کرو ورنہ خدا تعالیٰ کا تم پر عذاب نازل ہوگا لیکن لوگوں نے ان کی بات کی کوئی پروانہ کی اور حضرت ابوبکر کے ایک بیٹے نے آگے بڑھ کر حضرت عثمان کی کی داڑھی پکڑ لی۔حضرت عثمان نے اُسے کچھ نہیں کہا۔صرف نظر اٹھا کر آپ نے اُس کی طرف دیکھا اور فرمایا اے میرے بھائی کے بیٹے ! اگر تیرا باپ اس جگہ ہوتا تو وہ یہ حرکت نہ کرتا۔معلوم ہوتا ہے اُس کی کے دل میں ابھی کچھ ایمان باقی تھا۔اُس کا ہاتھ کانپ گیا اور وہ پیچھے ہٹ گیا 8 مگر پھر ایک اور منافق آگے بڑھا اور اُس نے آپ کو شہید کر دیا۔9 غور کرو کہ صحابہ کتنی بڑی قربانیاں کرنے والے انسان تھے۔کس طرح اسلام کی حفاظت کے لیے انہوں نے دیوانہ وار اپنی جانیں قربان کیں مگر دوسری تیسری نسل میں ہی لوگوں کے اندر ایسا بگاڑ پیدا ہو گیا کہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسوں کی کو میدان کربلا میں شہید کر دیا۔