خطبات محمود (جلد 39) — Page 204
1958ء 204 خطبات محمود جلد نمبر 39 گئے ۔ اُس نے درخواست دی تھی کہ میرا وظیفہ بڑھایا جائے ۔ انگریزوں نے اس کے بارہ بیٹوں کے سر کاٹ کر اور خوان میں لگا کر اس کی طرف بھیج دیئے اور ساتھ ہی کہلا بھیجا کہ یہ آپ کا بڑھا ہوا وظیفہ ہے۔ غرض تمام تباہی جو مسلمانوں پر آئی زیادہ تر گانے بجانے کی وجہ سے ہی آئی ہے۔ اندلس کی حکومت گانے بجانے کی وجہ سے تباہ ہوئی ، مصر کی حکومت گانے بجانے کی وجہ سے تباہ ہوئی۔ مصر پر صلاح الدین ایوبی نے حملہ کیا تو فاطمی بادشاہ اُس وقت گانے بجانے میں ہی مشغول تھا۔ خدا نے مسلمانوں کو معزز بنایا تھا مگر نہ معلوم وہ میراثی کب سے بن گئے؟ ہر ایک کو شوق ہے کہ میراثی بن جاؤں حالانکہ ان میں سے کوئی مغل ہے، کوئی پٹھان ہے، کوئی سید ہے اور کوئی کسی اور معز زقوم سے تعلق رکھتا ہے۔ اگر تمہیں میراثی بننے کا ہی شوق تھا تو تمہیں چاہیے تھا کہ تم میراثیوں کے گھروں میں پیدا ہو جاتے مگر ایک طرف تو یہ کیفیت ہے کہ ہر شخص کو میراثی بننے کا شوق ہے اور دوسری طرف یہ حالت ہے کہ ذرا کسی سے کہہ دو کہ فلاں میراثی کی لڑکی سے شادی کر لو تو وہ لڑنے کے لیے تیار ہو جاتا ہے کہ کیا تم مجھے میراثی سمجھتے ہو؟ مگر بازار میں سے گزرتے ہوئے وہ وہی سر میں لگاتا ہے جو میراثی لگایا کرتے ہیں اُس کا بیٹا بھی وہی سر میں لگاتا ہے جو میراثی لگایا کرتے ہیں۔ اور اس کی وہ کوئی پروانہیں کرتا۔ غرض وہ آپ میراثی بنتا ہے، اُس کے بچے میراثی بنتے ہیں، اُس کی بیوی میراغن بنتی ہے لیکن اگر کہا جائے کہ فلاں میراثی کا رشتہ لے لو تو وہ برا مناتا ہے۔ گویا اپنی بیوی کو میراثن بنانے میں تو وہ کوئی حرج نہیں سمجھتا، اپنے بچوں کو میراثی بنانے میں وہ کوئی حرج نہیں سمجھتا، اسی طرح آپ میراثی بننے میں وہ کوئی حرج نہیں سمجھتا لیکن میراثی کولڑ کی دینے یا اُس کی لڑکی لے لینے میں بڑی ذلت محسوس کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس کے متعلق بڑا بھاری سبق دیا تھا مگر افسوس ہے کہ انہوں نے پھر بھی نصیحت حاصل نہ کی ۔ دتی کی تباہی اس کی وجہ سے ہوئی ، بغداد کی تباہی اس کی وجہ سے ہوئی، مصر کی تباہی اس کی وجہ سے ہوئی ، اندلس کی تباہی اس کی وجہ سے ہوئی اور یا تو وہ سارا ملک مسلمانوں کا تھا اور یا آج ایک ہی مسجد جو وہاں باقی ہے عیسائی اُس کو بھی گرانے کی فکر میں ہیں۔ غرض مسلمانوں پر انتہا درجہ کا ظلم ہوا مگر اب بھی انہیں یہی شوق ہے کہ سینما دیکھیں اور گانا بجاناسنیں ۔ وہ ایک دوسرے سے کہیں گے