خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 8 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 8

$ 1958 8 خطبات محمود جلد نمبر 39 دھوتا اور جوئیں نکالتا تھا۔یہ سلوک دیکھ کر انہوں نے احمدی تو ہونا ہی تھا۔سنا ہے کہ اب وہ فوت ہو گیا کی ہے۔اُس کا بھائی سخت مخالف تھا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام انار کلی میں سے گزررہے تھے اور آپ کے ساتھ شیخ رحمت اللہ صاحب مرحوم اور بعض اور دوست تھے کہ اس نے پیچھے سے آکر آپ کی پیٹھ پر اچانک زور سے لات ماری جس سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام گر گئے۔شیخ رحمت اللہ صاحب اسے مارنے پر آمادہ ہوئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا شیخ صاحب ! اسے کچھ نہ کہیں۔اس نے مجھے یہ سمجھ کر مارا ہے کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بہتک کرتا ہوں۔اگر اسے پتا ہوتا کہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک نہیں کرتا تو یہ ایسی حرکت ہی کیوں کرتا۔ہماری جماعت میں ایک پروفیسر عبداللہ صاحب ہوا کرتے تھے۔وہ واقع میں پروفیسر نہیں تھے بلکہ اُن کا نام پروفیسر اس لیے پڑ گیا تھا کہ وہ شعبدہ بازی اور مداریوں کے کرتب وغیرہ جانتے تھے۔ایک دفعہ خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم لاہور سے قادیان گئے تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے شکایت کی کہ پروفیسر صاحب بڑے تیز مزاج ہیں۔اگر کوئی ان کے سامنے حضور کو بُرا بھلا کہے تو وہ اسے گالیاں دینے لگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں خبردار! اگر تو نے اب کے گالی نکالی تو میں تیرے منہ پر مکا ماروں گا۔تو کون ہوتا ہے جو حضرت صاحب کو گالیاں دے۔کچھ دنوں کے بعد پروفیسر صاحب قادیان آئے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں بلایا اور فرمایا پروفیسر صاحب! میں نے سنا ہے کہ آپ کے سامنے جب مجھے کوئی بُرا بھلا کہے تو آپ اُس سے لڑنے لگ جاتے ہیں۔آپ کو ایسا نہیں کرنا چاہیے اور صبر اور تحمل سے کام لینا چاہیے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں نرمی کی تعلیم دی ہے بختی کی تعلیم نہیں دی۔اُن کی طبیعت بڑی تیز تھی۔یہ سنتے ہی اُن کا چہرہ سرخ ہو گیا اور کہنے لگے میں یہ بات ماننے کے لیے بالکل تیار نہیں۔آپ کے پیر ( یعنی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ) کو اگر کوئی بُرا بھلا کہے تو آپ فوراً اُس سے مباہلہ کرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں اور مجھے کہتے ہیں صبر کرو۔خود توی کہتے ہیں کہ الا اے دشمن نادان و به راه بترس از تیغ برانِ محمد کرامت گرچہ بے نام و نشاں است بیا بنگر ز غلمان محمد 2 یعنی اے مخاطب ! اگر تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دشمنی کرتا ہے تو جان لے کہ