خطبات محمود (جلد 39) — Page 179
1958ء 179 خطبات محمود جلد نمبر 39 بھجوائے جائیں۔ اس وقت سب سے زیادہ ترقی کے آثار جرمنی میں نظر آ رہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر پندرہ ہیں اور مبلغ یورپ میں چلے جائیں اور دس پندرہ مسجدیں بن جائیں تو بڑی تعداد میں وہاں کے لوگ احمدی ہو سکتے ہیں۔ انگلینڈ کے لوگ تو اب عیاش ہو گئے ہیں لیکن جرمن سائنس کی تحقیقات پر جان دیتے ہیں اور بڑے دھڑلے سے کہتے ہیں کہ احمدیت بڑا اچھا کام کر رہی ہے۔ جب ہیمبرگ میں ہماری مسجد بنی اور اخبارات میں اس کی خبریں شائع ہوئیں تو عراق میں ایک جرمن انجنیئر تھا اُس نے ہمیں خط لکھا کہ ہیمبرگ میں مسجد کی تعمیر اور اس کے افتتاح کی خبریں تو ہم نے سن لی ہیں مگر آپ نے اپنے مبلغ کا پتا نہیں لکھا۔ آپ مجھے اُس کا پتا بھجوائیں کیونکہ میں اُسے چندہ بھجوانا چاہتا ہوں ۔ اب یہاں تو یہ کیفیت ہے کہ بعض دفعہ پیچھے پڑ کر بھی لوگوں سے چندہ مانگا جائے تو وہ نہیں دیتے اور اُس کی یہ حالت ہے کہ وہ عراق سے خط لکھتا ہے کہ مجھے اپنے مبلغ کا پتا بھجوائیں میں اُسے چندہ بھجوانا چاہتا ہوں۔ تو ہماری جماعت کے دوستوں کو چاہیے کہ وہ اسلامی ترقی کے لیے اپنا پورا زور لگا دیں۔ اب خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا وقت آ گیا ہے جیسے ڈال پر آم پک جاتے ہیں اور ہر آم آپ ہی آپ ٹوٹ کر نیچے گرنے کے لیے تیار ہوتا ہے، اب عیسائی دنیا اسلام قبول کرنے کے لیے بالکل تیار ہے صرف درختوں کی ٹہنیاں ہلانے کی ضرورت ہے۔ جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم نے مریم سے کہا کہ کھجور کے تنا کو ہلا تجھ پر تازہ بتازہ کھجوریں گریں گی ۔ 2 اسی طرح ہمیں بھی اب صرف تنا ہلانے کی ضرورت ہے ورنہ پھل پک چکا ہے اور اب وہ گرنے ہی والا ہے۔ لطیفہ مشہور ہے کہ ایک دہر یہ باغ میں گیا تو کہنے لگا لوگ تو خدا تعالیٰ کو بڑا عقلمند کہتے ہیں مگر یہ کیسی عقلمندی ہے کہ اس نے ایک سی سی بیل کے ساتھ تو اتنا بڑا کد ولگا دیا اور بڑے بڑے مضبوط درختوں پر چھوٹے چھوٹے آم لگا دیئے ۔ تھوڑی دیر کے بعد اُسے نیند آئی اور وہ وہیں ایک آم کے درخت کے نیچے سو گیا۔ سویا ہوا تھا کہ اچانک اُس کے سر پر بڑے زور سے ایک آم آ گرا۔ وہ گھبرا کر اُٹھ بیٹھا اور کہنے لگا اللہ میاں ! میری توبہ میں اپنی گستاخی کی تجھ سے معافی طلب کرتا ہوں۔ میں سمجھ گیا کہ جو کچھ تو نے کیا ہے بالکل درست ہے۔ اگر اتنی دور سے کرو مجھ پر گرتا تو میری تو جان نکل جاتی ۔ اسی طرح یورپ بھی اب ٹیکنے کو تیار بیٹھا ہے۔ ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ جماعت قربانی کرے۔ کچھ چندوں میں زیادتی کرے اور کچھ نوجوان اپنے آپ کو وقف کریں۔ بیشک