خطبات محمود (جلد 39)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 169 of 392

خطبات محمود (جلد 39) — Page 169

$1958 169 خطبات محمود جلد نمبر 39 وہ کسی ایسے خطبہ سے بہت زیادہ بہتر ہوتی ہے جو لمبا تو ہومگر اُس پر عمل نہ کیا جائے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے کہ سارا قرآن ابو جہل کی وجہ سے نازل ہوا ہے ورنہ اگر سب لوگ کی ابوبکر جیسے ہی ہوتے تو بسم اللہ کی ب ہی ان کی ہدایت کے لیے کافی تھی۔2 ”ب“ کے معنے ساتھ کے ہیں اور دین کا سارا خلاصہ اسی میں آجاتا ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو جائے۔اب مجھے یہ یاد نہیں رہا کہ آپ یہ بات اپنی طرف سے بیان فرمایا کرتے تھے یا کسی پہلے بزرگ کی بیان فرمایا کرتے تھے۔بہر حال آپ فرماتے تھے کہ اگر ابو بکر جیسے لوگ ہی پائے جاتے تو ان کے لیے اتنے بڑے قرآن کی ضرورت ہی تھی۔اُن کے لیے صرف بسم اللہ کی ” ہی کافی تھی۔وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہو جاتے اور ہدایت پا جاتے۔تو انسان اگر کوشش کرے تو چھوٹی سے چھوٹی بات سے بھی فائدہ اُٹھا سکتا ہے۔مثنوی رومی میں لکھا ہے کہ محمود غزنوی نے ایک دفعہ ایک مقام پر حملہ کیا۔وہ ایک دن بیٹھا ہوا کی تھا کہ اُس نے اچانک ایک پہاڑ کی طرف دیکھا۔ایاز نے اُسی وقت فوج کا ایک دستہ لیا اور اُس طرف نی کو چلا گیا۔چونکہ وہ ایاز سے بہت محبت کرتا تھا اور لوگ اس پر حسد کرتے تھے اس لیے جب وہ فوج کا دستہ لے کر اُدھر چلا گیا تو انہوں نے محمود سے کہا کہ حضور! دیکھیے ایاز کیسا بے وفا ہے آج ہی خطرے کا وقت تھا اور آج ہی وہ فوج کا دستہ لے کر کہیں باہر چلا گیا ہے۔محمود نے کہا اُسے آنے تو دو پھر پتا لگ جائے گا کہ وہ کیوں گیا تھا۔تھوڑی دیر کے بعد وہ آیا تو دشمن کے دو آدمی اُس کے ساتھ تھے جنہیں اُس کی نے گرفتار کیا ہوا تھا۔محمود نے کہا تم اچانک فوج کا دستہ لے کر کدھر چلے گئے تھے ؟ اُس نے کہا حضور کی نے جواچانک اس پہاڑ کی طرف دیکھا تو میرے دل میں خیال آیا کہ میرا آقا کوئی حرکت بلا وجہ نہیں کیا کرتا۔ضرور اس کی تہہ میں کوئی بات ہو گی۔چنانچہ میں ایک دستہ فوج لے کر اُدھر چلا گیا۔وہاں میں نے دیکھا کہ پہاڑی درہ میں دشمن کے یہ دو آدمی چھپے بیٹھے تھے اور ان کی سکیم یہ تھی کہ جب حضور نیچے سے گزریں تو اوپر سے پتھر گرا کر حضور کو ہلاک کر دیں۔اب ان دونوں آدمیوں کو میں گرفتار کر کے لے آیا ہوں۔محمود نے اُن لوگوں کی طرف دیکھا جنہوں نے اس کی شکایت کی تھی اور کہا بتاؤ تم وفا دار ہو یا سیہ وفادار ہے؟ میں نے اسے کچھ کہا نہیں صرف آنکھ اُٹھا کر میں نے اُس طرف دیکھا تھا مگر یہ اُسی وقت فوج کا ایک دستہ اپنے ساتھ لے کر اُس طرف کو نکل گیا اور دشمن کے آدمیوں کو گرفتار کر کے لے آ کیونکہ اس نے سمجھا کہ محمود کوئی لغو کام نہیں کیا کرتا۔اس نے جو پہاڑ کی طرف آنکھ اُٹھا کر دیکھا ہے تو